مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
مزاج کی مکمل رعایت کرتے ہوئے دی جائے تو یقین ہے کہ اکثر لوگوں کے لئے یہ دین ان کے اپنے دل کی آواز ثابت ہوگا۔ سائنس میں صحت و واقعیت (Precision) کی نہایت درجہ اہمیت ہے۔ اس لئے جو لوگ سائنس کے شعبوں میں کام کرتے ہیں ان کے اندر اس کے اثر سے خود بخود واقعیت فکر (Precised thinking) کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ کو "علوم کی ملکہ" کہا جاتا تھا۔ مگر موجودہ دور میں اس نے اپنی یہ اہمیت کھودی ہے۔ کیوں کہ یعنی صحت Technical Perfection کا دور ہے اور فلسفہ کا انداز بحث فنی صحت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اسی سائنسی طرزِ فکر کا اثر تھا کہ قدیم زمانہ کا استشراق مغرب میں ختم ہوگیا۔ واقعیت فکر کا یہ مزاج دین حق کی تبلیغ کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ تاہم سائنسی معاشرہ جہاں اسلام کے لئے ایک نہایت موافق دعوتی زمین فراہم کرتا ہے، وہیں وہ ہمارے لئے ایک مسئلہ بھی ہے۔ سائنس کا عمل چونکہ خارجی تجربوں کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ اس لئے عام طور پر صرف فکری اور نظریاتی استدلال انھیں متاثر کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ وہ روحانی درس سننے کے ساتھ کوئی روحانی تجربہ بھی ضرور کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ عملی طور پر سمجھ سکیں کہ روحانیت کیا ہے اور اس کو کس طرح بڑھایا جاسکتا ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس کا حل تصوف کے اعمال واشغال ہیں۔ مگر یہ تمام غیر مسنون طریقے ہیں اور بدعت کے ذریعہ سنت کو زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ زیر نظر کتاب کی ترتیب کے دوران یہ سوال میرے ذہن میں تھا۔ ۱۳ اور ۱۴ جولائی سنہ ۱۹۷۱ء کی درمیانی شب کو میں نے دہلی میں خواب دیکھا کہ میں کچھ غیر مسلموں کے ساتھ ہوں اور ان کو اسلام کی باتیں بتا رہا ہوں۔ یہ جدید تعلیم یافتہ لوگ تھے اور اپنے سائنٹفک ذہن کی وجہ سے چاہتے تھے کہ اسلام کی صداقت کو تجرباتی طور پر جان سکیں۔ میں نے پورے اعتماد کے ساتھ انھیں جواب دیا: "یہ ممکن ہے اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ نماز کا تجربہ کریں جو اسلام کے عملی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے" گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی ۔ میں خواب سے بیدار ہواتو اپنا ایک فقرہ مجھے لفظ بلفظ یاد تھا : Without being a Muslim You can experience Namaz اس کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انھیں وضوکراؤ، میں نماز پڑھاؤں گا اور یہ لوگ میرے ساتھ کھڑے ہو کر اس کو دہرائیں گے۔ اس خواب کے بعد میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ نہ صرف نظری طور پر بلکہ عملی بھی نماز کے یہ فائدے تاریخ میں بار بار حاصل ہوئے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ ہند جگر خوار کے اسلام سے متاثر ہونے کا ابتدائی سبب نماز ہی تھی۔ افریقی تاریخ کا ایک مبصر لکھتا ہے: " وسط افریقہ میں اسلام کی اشاعت بڑی حد تک سیاحوں اور عرب تاجروں کے ذریعہ ہوئی ۔ ان کا سب سے بڑا معجزہ جس سے افریقہ میں اسلام کی اشاعت ہوئی ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader