مضمونِ دعوت
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
نماز تھا۔ جہاں یہ لوگ ایک امام کے پیچھے ایک صف میں کھڑے ہوئے اور ان کے چہروں سے خدا کا خوف ظاہر ہوا، دیکھنے والے پگھل کر رہ گئے۔ لوگ ایک طرف اپنی ذلیل بت پرستی پر نادم ہوئے، دوسری طرف اسلامی عبادت نے ان کو اپنی طرف کھینچا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صرف نماز نے وسط افریقہ کی اکثر آبادی کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا دیا‘۔ Winwood Reade, Martyredom of Man, p. 32 محمد حسنین ہیکل (سابق ایڈیٹر الاہرام) نے لکھا ہے کہ جمال عبدالناصر جب پہلی بار روس گئے تو ۲۹ اپریل ۱۹۵۸ء کی ملاقات میں اس وقت کے روسی وزیر اعظم نکیتا خروشیوف نے نماز سے بڑی دل چسپی ظاہر کی: ’لا خروشچوف کو مسلمانوں کے نماز پڑھنے کا منظر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جب خروشچوف کے گھر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ناصر ظہر کی نماز کے لئے ماسکو کی مسجد جانے لگے تو خروشچوف نے سوالوں کی بھر مار کر دی۔ ناصر جتنی دیر وضو کرتے رہے خروشچوف بذات خود تولیہ لئے کھڑا رہا۔ اس نے بڑی عقیدت و احترام کا مظاہرہ کیا‘ The Cairo Documents ایک عرب ملک نے امریکہ کے ساحل پر ایک جزیرہ خرید کر اس کو تفریح گاہ بنایا ہے۔ کاش کسی مسلم ملک کی توجہ اس طرف ہو اور وہ مغربی دنیا میں کوئی بڑا قطعہ زمین حاصل کر کے وہاں جدید ترین معیار کا ایک اسلامی مرکز قائم کرے جس میں دیگر اسلامی شعبوں کے علاوہ ایک بڑی مسجد بھی ہو۔ یہاں اسلام کے تعارف کے لئے جو چیزیں مہیا کی جائیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہو کہ مخصوص اہتمام کے ذریعہ غیر مسلموں کو موقع دیا جائے کہ وہ کسی درد سر نہ رکھنے والے مسلمان کے ساتھ تجربہ کے طور پر نماز کی چند رکعتیں ادا کریں۔ قوی امید ہے کہ یہ تجربہ انتہائی مفید ثابت ہوگا اور لوگ جوق در جوق اسلام لائیں گے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ مغرب کو فتح کرنے کا راز، جس کو ہمارے قائدین ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے سیاست کی دنیا میں تلاش کر رہے ہیں، زیادہ بہتر طور پر " نماز" کے اندر چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader