Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

جدید امکانات بریڈلے (۱۹۳۶-۱۸۴۶) نے کہا تھا" دنیا کو ایک نئے مذہب (New Religion) کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسا عقیدہ چاہئے جو تمام انسانی مفادات کا تعین کرے اور ضروری تناسب کے ساتھ اس کے جواز کی بنیاد ہو۔ اور اسی کے ساتھ وہ شعور عطا کرے جس سے انسان اس پر اعتماد کے ساتھ قائم ہو سکے‘۔ Essays on Truth and Reality, p. 446 انگریز فلسفی نے موجودہ صدی کے ربع اول میں جس نئے مذہب کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اس کے بعد فرانسیسی سائنس داں ڈونواۓ (۱۹۳-۱۸۸۳) نے جب الحاد سے توبہ کر کے مذہب کی طرف واپسی کا اعلان کیا اور اپنی مشہور کتاب ’’ہیومن ڈسٹنی‘‘ شائع کی تو یہ گویا اس بات کی علامت تھی کہ مذہب کی طرف انسان کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اب بیسویں صدی کے خاتمہ پر یہ صورت حال اور نمایاں ہو چکی ہے۔ مادی نظریات اور مادہ پرستانہ زندگی کے تجربات کے بعد یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ وضعی قوانین اور دنیوی تدبیروں سے سماجی اصلاح کی کوششوں کی ناکامی نے مذہب کے خلاف جارحانہ ذہن کو نرم ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ آج ساری دنیا میں ایک قسم کا مذہبی رد عمل شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ کے نوجوان جن کے والدین نے ڈارون اور فرائڈ کے نظریات میں اپنا عقیدہ پایا تھا، ان کی نئی نسل بیسوی انقلاب (Jesus Revolution) اور شعور کرشن (Krishna Consciousness) میں اپنی تسکین ڈھونڈھ رہی ہے۔ جاپان کے نوجوان مادی ترقی کی چوٹی پر پہنچ کر روحانی قدروں کا خلا محسوس کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کلچر تو مرچنٹ کلچر ہے جو ہمیں سود اگرا نہ اقدار (Merchant Values) کے سوا اور کچھ نہیں دیتا۔ حتیٰ کہ روس کی نئی نسل میں بھی مذہب سراٹھار ہا ہے ۔ حالاں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مکمل طور پر ایک الحادی معاشرہ میں تربیت پا کر نکلے ہیں۔ ماسکو میں سوویت روس کے مخالف مذہب محکمہ کے افسروں کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ ایک افسر نے مذہب کے خلاف مہم کی سست رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ’’مذہب کے خلاف ہماری مہم اسٹیم انجن کی رفتار سے چل رہی ہے! یہ سن کر دوسرا افسر بولا: ’’اسٹیم انجن ! ابھی تو یہ پہیہ بھی دریافت نہیں ہوا!‘‘ وہ سارے نظریات جو ۱۹ ویں صدی میں مذہب کے بالمقابل کھڑے کئے گئے تھے، بعد کے دریافت شدہ حقائق نے حیرت انگیز طور پر ان کی صحت مشتبہ کر دی ہے۔ نظریہ ارتقاء جو کسی وقت خالق کا بدل سمجھ لیا گیا تھا، آج بے دلیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ مثال کے طور پر ایسے طریقے دریافت کئے گئے ہیں جن سے زمین کی عمر نهایت صحت کے ساتھ معلوم کی جا سکتی ہے۔ مگر ان طریقوں نے زمین کی جو عمر بتائی ہے، وہ اس عمل ارتقار کے لئے ناقابل قیاس حد تک کم ہے جو یہ نظریہ زندگی کے موجودہ نمونوں کے ارتقائی طور پر وجود میں آنے کے لئے فرض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page