Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتا ہے۔ دو ممتاز مالیکولر بایولوجسٹوں نے اس سلسلے میں ایک چونکا دینے والا نظریہ پیش کیا ہے۔ نوبل انعام یافتہ فرانسس کر یک (Francis Crick) اور لزلی اور گل (Leslie Orgel) نے اپنی ایک مشترکہ تحقیق میں ایسے وجوہ کی نشان دہی کی ہے جن کی بنیاد پر زندگی کو زمینی مادہ کی ارتقا یافتہ شے قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ان میں سے ایک چیز مولب ڈینم (Molybdenum) کا وہ رول ہے جو حیاتیاتی نظام میں پایا جاتا ہے ۔ اکثر انزائم سسٹم (Enzyme System) پٹی کار کردگی کے لئے اس دھات کے لازمی طور پر محتاج ہوتے ہیں۔ مولب ڈینم اتنہ غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باوجود زمین میں پائی جانے والی کل دھاتوں کا صرف 0.02 فی صد دس ہزار میں دو) ہے۔ دوسری طرف زیادہ پانی پائی جانے والی دھاتیں مثلاً کر دمیم اور نکل، جو کہ اپنی خاصیت میں مولب ڈینم سے بہت مشابہ ہوتی ہیں اور زمینی دھاتوں کا 0.02 فی صد میں ، حیاتیاتی نظام میں بالکل کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کر یک اور آگل کہتے ہیں کہ زمین کی جو کیمیائی ترکیب ہے، زمین پر وجود میں آنے والی زندگیوں کی بناوٹ میں ان کا انعکاس (Reflection) ہونا چاہئے تھا۔ اور چوں کہ ایسا مطلق نہیں ہے، اس لئے وہ فرض کرتے ہیں کہ زندگی بالائی خلا میں بسنے والی کسی زیادہ ترقی یافتہ تہذیب کی طرف سے زمین پر بھیجی گئی تھی ۔ اس مطالعہ نے سویڈش کیمیسٹ ارنے نیس (Arrhenius) کے نظریہ (Panspermia) کو ایک نئی سائنسی بنیاد عطا کر دی ہے ۔ اس قسم کی بے شمار چیزیں موجودہ زمانہ میں وجود میں آئی ہیں جنھوں نے سائنس یا فکر جدید کو مذہب کے انتہائی قریب کر دیا ہے۔ جسم کی تمام سوئیاں نکالی جا چکی ہیں بس اتنی کسر باقی ہے کہ کوئی آگے بڑھ کر آنکھ کی سوئی نکال دے۔ موجودہ زمانہ میں علم کے تمام شعبوں میں ایسی باتیں دریافت ہوئی ہیں جو حیرت انگیز طور پر اسلامی معتقدات کی صداقت ثابت کر رہی ہیں اور انھوں نے انسانی ذہن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عرب کے قدیم مخالفین تو توحید کا کلمہ کہنے والوں کو اتنی تکلیف پہنچاتے کہ سیدھا بیٹھنا ان کے لئے مشکل ہو جاتا۔ انھیں مجبور کر کے ان سے کہلاتے : اللات و العزیٰ الثمان من دون الله - آج خود علم کے ارقار نے ان باتوں کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ جدید سائنس کے لئے کائنات میں کئی خدا ماننا بالکل بے معنی ہے۔ سائنسی کائنات میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اگر غیر مرعوبانہ ذہن اور وقت کا گہرا علم ہو تو آج دین کا اثبات اتنی بلند سطح سے کیا جا سکتا ہے کہ وقت کے تمام فکری نظام اس کے مقابلے میں بونے نظر آنے لگیں ۔ ۱۔ موجودہ زمانہ کی علمی دریافتوں میں، اسلامی نقطہ نظر سے، سب سے اہم چیز جدید طریق استدلال (Methodology) ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ کسی استدلال کے حقیقی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ دعویٰ اور وہ چیز جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے ، دونوں کے درمیان ویسا ہی رشتہ موجود ہو جیسے بلی کے بن اور اس سے ملتی لب کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کسی نظریہ کے ثابت شدہ واقعہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ قابل مظاہرہ (Demonstratable) ہو۔ مگر اب یہ تصور ختم ہو چکا ہے۔ اس معاملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page