جدید امکانات
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تازہ علمی موقف یہ ہے کہ اگر ایسے حقائق موجود ہوں جن سے سائنس داں ایک نظریہ مستنبط کرنے کی پوزیشن میں ہو تو اس مستنبط نظریہ کو بھی سائنسی طور پر تسلیم شدہ واقعہ سمجھا جائے گا۔ استدلال کے اسی جدید معیار کے تحت ارتقاء کے ثابت شدہ واقعہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیوں کہ خواہ اس کا مناظرہ نہ ہوسکے، تاہم، علمائے حیاتیات کے نزدیک ایسے حقائق دریافت ہو چکے ہیں جن سے ارتقاء بطور سائنسی استنباط کے ثابت ہو جاتا ہے۔ یہ معیار استدلال، جہاں جدید سائنسی دریافتوں نے انسان کو پہنچایا ہے، اسلامی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ پچاس سال قبل تک ہمارے لئے ممکن نہ تھا کہ مذہبی معتقدات کو ’’سائنسی استدلال‘‘ کی سطح پر ثابت کر سکیں کیوں کہ اس وقت کی سائنس صرف مشاہداتی حقائق کو تسلیم کرتی تھی۔ استنباطی حقائق کے لئے اس کے علمی خانہ میں کوئی جگہ نہ تھی۔ مگر اب قرآن کا وہ استدلال جس میں وہ محسوس دنیا کے واقعات سے غیر محسوس دنیا کے حقائق پر دلیل قائم کرتا ہے، کم از کم اصولی طور پر خالص سائنسی استدلال قرار پاتا ہے، جب کہ نصف صدی قبل کوئی اس کو سائنسی استدلال ماننے کے لئے تیار نہ ہو سکتا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا میدان ہے اور اس کو استعمال کرکے اسلام کی حمایت میں نہایت طاقت ور علم کلام وجود میں لایا جا سکتا ہے۔ ۲۔ ابن رشد (۱۱۹۸۔ ۱۱۳۰) کے زمانہ کی جو ’’عقلیات‘‘ تھیں، اس کا ڈھانچہ ارسطو کی قیاسی منطق پر قائم تھا۔ اس قیاسی عقلیات کے ڈھانچہ میں ابن رشد نے کائنات کو دیکھا تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ مادہ کی قدامت کا انکار کس طرح کرے۔ اس نے مادہ کو قدیم مان لیا اور اس کے اوپر اپنے الہیاتی فلسفہ کی بنیاد کھڑی کی۔ حالاں کہ مادہ کو قدیم ماننے کے بعد الہیات کے لئے کوئی حقیقی بنیاد ہی باقی نہیں رہتی۔ مادہ کا قدیم ہونا خدا کے خالق اور بدیع ہونے کا کھلا ہوا انکار ہے۔ اس کے بعد زیادہ سے زیادہ ’’محرک اول‘‘ کی حیثیت سے خدا کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو حقائق دریافت ہوئے ہیں، مثلاً حرکیات حرارت کا دوسرا قانون (Second Law of Thermodynamics) اس کے بعد مادہ کے قدیم ہونے کا قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ہے۔ اس طرح کے بے شمار حقائق ہیں جنھوں نے ہم کو موقع دیا ہے کہ انتہائی قوی بنیادوں پر اسلامی عقائد کو مدلل کر سکیں۔ ۳۔ ایک بہت بڑا مسئلہ جس میں ہزاروں برس سے انسانی دماغ الجھا ہوا تھا، مگر وہ حل نہیں ہوتا تھا، یہ ہے کہ حکما اور فلاسفہ جو کائنات کے منے کو عقل سے حل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، عقلی پرواز کی آخری حد کو پہنچ کر بھی اس کو حل کرنے میں ناکام رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ نے اب تک صرف تشلیک تک پہنچانے کا کام انجام دیا ہے۔ وہ کسی مثبت عقیدہ تک انسان کو نہ پہنچاسکا۔ قرآن نے اس کی توجیہہ یہ کی تھی کہ انسان کو علم قلیل (اسرا۔ ۸۵) دیا گیا ہے۔ انسان اپنی عقلی تلاش کے ذریعہ صرف ایک حد تک ہی پہنچ سکتا ہے۔ وہ حقیقت کی آخری حدود تک نہیں جا سکتا۔ اس سے آگے جانا چاہے گا تو لازمی طور پر ناکام رہے گا۔ اس لئے حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ ایک حد کے بعد آدمی کو اس علم پر اعتماد کرنا چاہئے جو بذریعہ الہام انسان کو دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ دونوں نقطہ نظر صرف قیاسی بحثوں کا موضوع تھے۔ موجودہ زمانہ میں سائنس نے حیرت انگیز طور پر قرآن کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ سائنس نے دریافت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader