Urdu book · اسلام

اسلام

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر جو بات کہی گئی ، وہ اہل ایمان پر احکام کی مشروعیت کے پہلو سے ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دین کی ایک اہم حکمت تدریج فی الاحکام ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو جس طرح غیر مسلم اکثریت کے درمیان مسلم اقلیت کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کے اجتماعی احکام کے نفاذ کی مہم سے اپنے کام کا آغاز کرے۔ اسی طرح بگڑے ہوئے مسلم معاشرہ میں اگر کچھ لوگوں کو اسلام کا شعور حاصل ہو جائے تو ان کی ذمہ داری بھی پہلے مرحلہ میں یہ نہیں ہے کہ وہ نفاذ قانون کے مطالبہ کی مہم جاری کر دیں۔ اس قسم کی مہم اسلام کے تدریجی طریق کار سے انحراف کے ہم معنی ہوگی ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دین کے ابتدائی احکام اور اس کی اصولی تعلیمات کے پھیلانے سے اپنے کام کا آغاز کیا جائے ۔ اور مسلم معاشرہ کو اس حد تک اصلاح یافتہ بنایا جائے کہ اس کے اندر اسلام کے عدالتی احکام اور اجتماعی قوانین کی قبولیت کا مادہ ضروری حد تک پیدا ہو جائے ، اس کے بعد ہی وہ وقت آئے گا جب اسلام کے ان احکام کے نفاذ کی مہم شروع کی جائے۔ حضرت عائشہ رضہ کی مشہور روایت سے تدریج فی الاحکام کی اہمیت واضح ہے۔ اللہ تعالی کی نظر میں تدریج کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اسلام قبول کرنے والوں کے لئے ضروری احکام یکبارگی پوری شکل میں نازل نہیں کر دیئے گئے ، بلکہ اکثر احکام کو قسط وار صورت میں بھیجا گیا۔ یہی وہ رعایت ہے جس نے کتاب الہی میں ناسخ ومنسوخ کا مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اگر ہر حکم پہلی ہی بار پوری شکل میں نازل کر دیا گیا ہوتا تو نسخ کا کوئی سوال نہ تھا۔ حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ وعظ کرنا اور قرآن کی تفسیر بیان کرنا ایسے شخص کے لئے جائز نہیں جو ناسخ ومنسوخ کے مسائل کو نہ جانتا ہو ۔ شہادت حق غیر مسلموں کے سلسلہ میں ہماری جو ذمہ داری ہے وہ شہادت حق یا دعوت الی الاسلام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا پیغام خدا کے بندوں تک پوری طرح پہنچ جائے تاکہ آخرت میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ ہم کو حقیقت کا علم نہیں تھا۔ دنیا میں انسان کو اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے : الذی خلق الموت والحیوۃ ليبلوكم ايكم احسن خدا نے بنائی موت اور زندگی تاکہ تم کو جانچے کہ کون تم میں اچھا کام کرتا ہے۔ (الملک - ۲) یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں آدمی جو رویہ اختیار کرے گا، اسی پر آخرت میں اس کے انجام کا انحصار ہو گا جو یا تو دائمی جنت ہے یا دائمی جہنم۔ صورت حال کی اس سنگینی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page