جدید امکانات
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا ہے کہ عقلی طریقے سے آدمی صرف جزوی علم تک پہنچ سکتا ہے حتیٰ کہ تاریک غار (Black Holes) کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ ٹھوس مادہ کا بھی صرف تین فی صد حصہ انسان کے مشاہدہ میں آتا ہے، بقیہ ۹۷ فی صد حصہ انسان کے نا قابل مشاہدہ ہے، اس جدید علمی دریافت نے ہمیں موقع دے دیا ہے کہ ہم قرآن کے موقف کو جدید ترین علمی انداز میں ثابت کر سکیں اور الہامی حقائق کی معقولیت کو جدید علمی معیار پر مدلل کر سکیں ۔ جدید سائنس نے جن باتوں کا اقرار کیا ہے، اس کی تفصیل بتانے کے لیے ایک انسائیکلوپیڈیا یا درکار ہوگی یہ مثال کے طور پر ہم چند باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ عالم فطرت کی کھوج کے دوران سائنس نے کائنات کی جو حکمتیں دریافت کی ہیں، وہ حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی ذہن ہے جس نے اسے خلق کیا ہے اور اس کو کنٹرول کر رہا ہے۔ سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے وہ اس قدر حیرت انگیز طور پر با معنی اور منظم ہے کہ اس کی کوئی توجیہہ بن نہیں سکتی اگر اس کے پیچھے ایک خالق اور مالک کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ اسلام کا دوسرے مذاہب سے سب سے بڑا جھگڑا شرک اور توحید کے مسئلہ پر تھا۔ لوگوں کے لیے یہ ناقابلِ فہم ہو رہا تھا کہ مختلف النوع مظاہر رکھنے والی اس دنیا کا خدا ایک کس طرح ہو سکتا ہے۔ مگر سائنس کی اس دریافت نے اُس معاملہ میں آخری علمی فیصلہ اسلام کے نظریہ توحید کے حق میں دے دیا کہ کائنات نہ صرف اس اعتبار سے ایک ہے کہ وہ ایک ہی ہمہ گیر قانون کے تحت چل رہی ہے بلکہ اس کا مادہ اس کا مادہ بھی اپنے آخری تجزیہ میں صرف ایک ہے، یعنی ایٹم یا ناقابل مشاہدہ برقی لہریں ۔ سائنس نے اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ کر انتہائی قطعیت کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے اپنے ذرائع علم ہم کو عالم واقعات کا صرف جزوی علم دیتے ہیں، وہ اس کا کلی احاطہ نہیں کر سکتے۔ یہ بات صرف موجودہ ذرائع مشاہدہ ہی کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے بلکہ حقائق کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ ہم اپنی محدود نظری صلاحیتوں کے ساتھ کبھی بھی ان کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ۔ اس سے یہ بات قابلِ فہم ہو جاتی ہے کہ عالم حقائق کو سمجھنے کے لئے انسان اپنے حسی علوم کے علاوہ کسی اور ذریعہ علم کا محتاج ہے ۔ سائنس نے دریافت کیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری شکل میں ناقابلِ مشاہدہ ہے۔ ہم اس کو صرف اس کے مظاہر سے مستنبط کر سکتے ہیں ، اس کو براہ راست دیکھ نہیں سکتے۔ یہ ٹھیک اسی موقف کی تصدیق ہے جس کا اظہار اسلام نے کیا تھا کہ انسان خدا کو یا عالم آخرت کو موجودہ زندگی میں نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ کائنات کے مظاہر میں غور کرے تو یقیناً وہ اس کے اندر اس کی تصدیق پالے گا ۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ انسانی تعلقات کے بارے میں الہیٰ قانون وضعی قانون پر فوقیت رکھتا ہے ۔ مثال کے طور پر اسلام نے مرد کو عورت کے اوپر قوام (نساء ۳۴) بنایا ہے۔ وضعی قوانین نے اس کے برعکس مرد و زن کی مساوات پر زور دیا۔ مگر آج خالص سائنسی طور پر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عورت خلقی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader