Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

کم زور ہے اور مرد اس کے مقابلہ میں صنف برتر (Dominant Sex) کی حیثیت رکھتا ہے۔ قدیم فلاسفہ کے یہاں مذہب کے خلاف سب سے بڑی بنیاد قدم کا مسئلہ تھا۔ یعنی یہ کہ کائنات ازل سے موجود ہے اور جب ازل سے موجود ہے تو کسی کو خالق ماننے کی کیا ضرورت۔ مگر جدید سائنس نے یہ ثابت کرکے کہ عالم کی عمر محدود ہے، اس قضیہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد انسان نے ارتقار کا سہارا لیا۔ مگر یہاں بھی یہ ثابت ہو گیا کہ زمین کی جو محدود عمر ہے اس کے اندر موجودہ انسان کی تخلیق ارتقائی طور پر ممکن نہیں۔ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ کائنات میں جو حقائق ہیں، ان میں سے کسی پر بھی براہ راست استدلال قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ بعض ظاہری چیزوں کے مطالعہ سے اس استنباطی قرینہ تک پہنچیں کہ یہاں فلاں حقیقت پائی جا رہی ہے ، اس طرح سائنس نے بالواسطہ طریق استدلال کی صحت کو علمی طور پر ثابت کر دیا ہے جس پر مذہب کے استدلال کی بنیاد قائم تھی۔ اسلام نے سیاست میں شورائی خلافت کا نظریہ پیش کیا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ نسلی بادشاہت کا تصور ذہنوں پر مسلط تھا، یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا تھا، مگر جدید جمہوری انقلاب نے آج کے انسان کے لئے اسلام کی شورائی خلافت کو قابل فہم بنا دیا۔ اسلام نے اعلان کیا کہ آدمی کی کمائی میں اس کے کمزور ساتھیوں کا بھی حق ہوتا ہے۔ اس کے لئے زکوۃ کا قانون جاری کیا۔ مگر اس قسم کا معاشی نظام قدیم انسان کے لئے ناقابل تصور تھا۔ پیغمبر کی وفات کے بعد ارتداد کا مسئلہ پیدا ہونے کا پس منظر یہی تھا۔ موجودہ زمانہ میں سوشلسٹ انقلاب نے اس کو قابل فہم بنا دیا کہ ایک کی کمائی میں دوسرے کا حق ہونا چاہئے ۔ اگرچہ سوشلزم سے یہ غلطی ہو گئی کہ اس نے "ملکیت" میں حق ثابت کرنا شروع کر دیا جب کہ صحیح بات یہ تھی کہ "آمدنی" میں حق ثابت کیا جاتا۔ ایک بات جس کو ابھی تک پوری طرح سمجھا نہیں گیا ہے، وہ یہ کہ دور سائنس حقیقتاً دور اسلام تھا جس کو بعض اتفاقی غلطیوں، خصوصاً ایک بگڑے ہوئے مذہب (مسیحیت) سے اس کے ٹکراؤ نے اس کو الحاد تک پہنچا دیا۔ سائنس کیا ہے، فطرت کا مطالعہ ۔ فطرت اور دین فطرت (اسلام) دونوں ایک ہی حقیقت کے رخ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پیشین گوئی کر دی گئی تھی کہ دور سائنس اسلام کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہو گا بلکہ وہ نبئین حق کا ذریعہ ہوگا : سنريهم آياتنا في الآفاق وفي انفسهم حتى يتبين ہم ان کو دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں اور انفس میں لهم انه الحق (فصلت - ۵۳) یہاں تک کہ کھل جائے گا ان پر کہ یہ حق ہے۔ دور سائنس کا آغاز یورپ میں نہیں بلکہ اندلس اور صقلیہ میں نویں اور دسویں اور گیارھویں صدی میں ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس وقت سائنس اور مذہب میں کوئی ٹکراؤ نہیں تھا۔ سائنس اس زمانہ میں مذہب کے خادم کی حیثیت سے ترقی کر رہی تھی۔ مگر ترکوں نے پندرھویں صدی میں جب آستانہ اور قسطنطنیہ سے بزنطینی علماء کو نکالا جس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page