Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ہجرت کر کے اٹلی پہنچے اور علوم فطرت میں تحقیق کا کام مسلم دنیا سے یورپ کی طرف منتقل ہوگا تو سائنس کی تاریخ نے بالکل نیا رخ اختیار کر لیا۔ اب سائنس کا مقابلہ ایک ایسی دنیا سے تھا جہاں مسیحیت کو اقتدار حاصل تھا۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی حقیقی تعلیمات وہی تھیں جو حضرت محمدؐ کی تعلیمات تھیں۔ مگر وہ چیز جس کو مسیحیت کہا جاتا ہے وہ در حقیقت ایک بگڑا ہوا مذہب ہے جس میں خدائی تعلیمات کے ساتھ بہت سی انسانی باتیں شامل ہو گئی ہیں۔ وہ اپنی موجودہ شکل میں مذہب کی صحیح نماینده نہیں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سائنس جس کو بغداد اور قرطبہ میں مذہب سے کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا تھا، اٹلی اور فرانس میں مذہب کی دشمن قرار دے دی گئی۔ مسلم علمائے فلکیات نے یہ قیاس پیش کیا کہ ارسطو کے مفروضہ کے برعکس زیادہ امکان یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہو۔ مگر اس وقت کسی مسلمان نے اس کو مذہب کے خلاف نہیں سمجھا۔ اس کے بعد جب نکولس کو پر نیکس (۱۴۷۳ء - ۱۵۴۳ء) نے یہی بات کہی تو وہ مسیحی عدالت میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ کیونکہ یہ خدا کے بیٹے کی توہین تھی کہ اس کی جنم بھومی کو دوسرے اجرام سماوی کا تابع قرار دیا جائے۔ ابن مسکویہ (۱۰۳۰ء ) نے یونانی فلسفہ کے خیال کی تائید کرتے ہوئے حیاتیاتی ارتقا کے نظریہ کی وکالت کی تو مذہب کے کے لئے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ مگر یہی نظریہ جب چارلس ڈارون (۱۸۸۲ء - ۱۸۰۹) نے پیش کیا تو یورپ کے مسیحی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ قرآن اور بائبل دونوں میں ہے کہ خدا نے زمین کو " چھ دنوں " میں پیدا کیا۔ مگر سائنس کی اس دریافت کو کبھی قرآن سے متصادم نہیں سمجھا گیا کہ زمین کی پیدائش مختلف لمبے ادوار کے بعد ہوئی ہے کیونکہ قرآن میں صراحت کر دی گئی تھی کہ " چھ دنوں " سے مراد انسانی دن نہیں بلکہ چھ خدائی دن ہیں۔ اس کے برعکس بائبل میں انسانی کلام کے الحاق سے ایسے الفاظ شامل ہو گئے جس کا مطلب یہی صبح و شام والے چھ انسانی دن تھے۔ اس لئے سائنسی دریافت کو ماننے والے مسیحی دنیا میں کافر قرار دے دیئے گئے۔ اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ سائنس اور مذہب کا مفروضہ ٹکراؤ حقیقتہ سائنس اور مسیحیت کا ٹکراؤ تھا۔ اگر سائنس کی ترقی ، اس کے ابتدائی ظہور کی طرح مسلم دنیا میں ہوئی ہوتی تو آج تاریخ بالکل دوسری ہوتی ۔ قرآن اور کائنات دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں، قرآن تصریف آیات کا مظہر ہے اور کائنات تدبیر امر کا (يدبر الامو ر تفصل الآيات ، رعد - (۲) سائنس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی تدبیر امر کا مطالعہ ہے مزید یہ کہ اس تدبیر کا تعلق جن قوانین فطرت سے ہے وہ چونکہ ہمیشہ یکساں حالت میں عمل کرتے ہیں اس لئے ان کو جاننے اور استعمال کرنے کے لئے بالکل حسابی قسم کا فکری انضباط انتہائی طور پر ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب اور خطابت کی فضا میں اگر مبالغہ آرائی پیدا ہوتی ہے تو سائنس کے بطن سے، اس کے بالکل برعکس ، درستی فکر وجود میں آتا ہے ، اس طرح سائنس دو گونہ وجوہ سے اسلام کی معاون بن جاتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ آدمی کو آلار رب (اللہ کے کرشموں) کا مطالعہ کراتی ہے جو اس دنیا میں معرفت الہی کا داد براہ راست ذریعہ ہے۔ دوسرے یہ کہ اس سے جو سائنسی طرز فکر پیدا ہوتا ہے ، وہ ٹھیک وہی ہے جو قرآن کو مطلوب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page