Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک واقعہ ہے کہ سائنس کی مذہب سے بغاوت محض ایک اتفاقی حادثہ تھا۔ چنانچہ ایک صدی سے بھی کم مدت گزری تھی کہ سائنس کی اندرونی منطق نے زور پکڑا اور وہ اپنی اصلی حالت کی طرف واپس آنے لگی۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کا سب سے پہلا مظاہر ہ وہ ہے جو استشراق کی تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا۔ صلیبی جنگوں (۱۰۹۶ء۔ ۱۲۷۰ء) کے بعد یورپ میں وجود میں آنے والا استشراق جس نے تمام مغربی لٹریچر کو مخالف اسلام خیالات سے مسموم کر دیا، در حقیقت مسیحی قوموں کے پرانے طریقے مقدس فریب (Pious Fraud) کا ایک نیا استعمال تھا۔ صلیبی جنگوں میں ناکامی کا بدلہ انھوں نے اہل اسلام سے یہ لیا کہ انھوں نے اپنے اس آزمودہ طریقے کو اپنے حریف مذہب کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔ چوں کہ اس وقت پورے یورپ میں ان کا اقتدار تھا، وہ اس میں اس حد تک کامیاب ہوئے کہ نہ صرف تاریخی اور مذہبی کتابیں بلکہ لغت اور ادب تک کو مخالف اسلام خیالات سے بھر دیا۔ شیکسپیر کے کے ڈرامے اور ملٹن کا کلام بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔ جدید دور میں چوں کہ تمام علمی موضوعات پر مطالعہ کا ذریعہ وہی کتابیں تھیں جو مغرب میں چھپ رہی تھیں، اس لئے اس مغربی استشراق نے نہ صرف یورپ کے ذہن کو بلکہ ساری تعلیم یافتہ دنیا کو متاثر کر کے رکھ دیا۔ انیسویں صدی اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی کہ واللہ غالب علی امرہ (یوسف۔ ۲۱) کی تفسیر ظاہر ہوئی۔ سائنس کے زور پر معروضی نقطۂ نظر (Objective thinking) کا ایک سیلاب اٹھا جو ساری علمی دنیا پر چھا گیا۔ استشراق پر اس سیلاب کا نمایاں اثر کارلائل (۱۸۸۱ء۔ ۱۷۹۵ء) کی کتاب " ہیروز اینڈ ہیروز ورشپ " میں نظر آتا ہے۔ اس کے بعد مسلسل طور پر یہ عمل جاری رہا۔ بالآخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ جس طرح جمہوریت کے سیلاب نے نسلی بادشاہت کو علم سیاست کی ردو سے بے معنی بنا دیا، اسی طرح اس ذہن کے لئے بھی کوئی علمی سایہ دنیا میں باقی نہ رہا کہ کسی مذہب کو بدنام کرنے کے لئے اس کی تاریخ اور اس کی تعلیمات کو بالقصد بگاڑ کر پیش کیا جائے۔ قدیم استشراق اپنی موت آپ مر گیا۔ اس تبدیلی کی دوسری مثال وہ جدید ذہنی تحریک ہے جس کو غلط طور پر " اینٹی سائنس " کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ اینٹی مادیت ہے نہ کہ حقیقتاً اینٹی سائنس۔ تاہم مذکورہ بالا مثال کے برعکس، اس تحریک نے ابھی تک کوئی واضح شعوری رخ نہیں اختیار کیا ہے۔ یہ زیادہ تر رد عمل کی ایک تحریک ہے نہ کہ کوئی مثبت تحریک۔ مثلاً صنعتی تہذیب اور آزادی نسواں کے نتائج میں سے ایک نتیجہ خاندانی انتشار تھا۔ میاں بیوی کا تعلق مذہبی تقدس سے خالی ہو کر محض ذاتی تسکین کا ذریعہ بن گیا۔ اس کے نتیجہ میں طلاقوں کی کثرت سے گھر اجڑنے لگے اور بچے ماں باپ کی سرپرستی سے محروم ہو کر مجرمین کی تعداد میں اضافہ کرنے لگے۔ جن گھروں میں طلاق کی نوبت نہیں آئی، وہاں بھی یہ ہوا کہ میاں بیوی دونوں دفتر چلے گئے اور بچہ کو "ڈے کیئر سنٹر" میں رکھ دیا۔ اس طرح انسان فطرت کی گود سے محروم ہو کر مشینوں کے حوالے ہو گیا۔ امریکہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال کا ایک بھیانک نتیجہ بچوں کے اندر ایک نئی بڑھتی ہوئی بیماری ہے جس کو ماہرین نے اوٹرم (Autism) کا نام دیا ہے۔ بظاہر تندرست اور جسمانی بیماریوں سے محفوظ بچے عجیب و غریب قسم کی ذہنی خرابیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اس قسم کے بہت سے مسائل ہیں جنھوں نے صنعتی تہذیب کی طرف سے لوگوں میں بے اعتمادی پیدا کر دی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page