جدید امکانات
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
اور وہ ”فطرت کی طرف واپسی“ کا نعرہ لگانے لگے ہیں۔ برطانیہ کے سوشیالو جسٹوں کی ایک ٹیم نے جائزہ لے کر بتایا ہے کہ اباحت پسند سماج (Permissive Society) برطانیہ میں اپنے خاتمہ کو پہنچ رہا ہے اور وکٹورین عہد کی طرف واپسی شروع ہوگی ہے جس کے متعلق پہلے سمجھا جاتا تھا کہ انیسویں صدی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایک فرانسیسی مصنف جین فرانسوائس ریویل کی ایک کتاب امریکہ سے چھپی ہے جس کا نام ہے: Without Marx or Jesus (1971) پونے تین سو صفحے کی اس کتاب میں مصنف نے دکھایا ہے کہ دنیا میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے۔ مگر یہ انقلاب نہ الحاد پر مبنی ہوگا نہ مذہب پر۔ بلکہ وہ کچھ نئی اقدارِ حیات پر قائم ہوگا جس کا سب سے بڑا مظاہرہ ایک عالمی حکومت کے قیام کی صورت میں ہوگا اور یہی کسی انقلاب کی واحد ممکن منزل ہے (۸۳) اس قسم کی بے شمار باتیں جو آج مغربی دنیا میں وقوع میں آ رہی ہیں، وہ کسی مثبت فکر کی علامت نہیں ہیں بلکہ صرف اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ مادی تہذیب کے نتائج سے گھبرا کر آدمی کسی صحیح تر تہذیب کی تلاش میں ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تک یہ حال تھا کہ مغربی جرمنی کے لوگ کہتے تھے ”ہمارے کارخانوں کی چمنیاں جب تک دھواں اگل رہی ہیں ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں“۔ مگر آج کارخانوں کی فضا آلودگی (Pollution) کا مسئلہ اتنا شدید ہو گیا ہے کہ وہ صرف متوقع ایٹمی جنگ سے دوسرے نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ راک فلر یونیورسٹی (نیویارک) کے ڈاکٹر اینی ڈوبوز نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ صنعتی ثقافت انسان سے بہت سی خصوصیاتیں چھین رہی ہے۔ حتیٰ کہ خطرہ ہے کہ مستقبل میں وہ کمتر درجہ کا انسان بن کر نہ رہ جائے۔ (لائف ۲۳ جولائی ۱۹۷۰) مادی تہذیب کے اس قسم کے نتائج سے جدید انسان سے ساری ترقیوں کے باوجود خوشی اور اطمینان چھین لیا ہے۔ مغربی دنیا میں آج کل کثرت سے ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں جن میں اس حقیقت کا اعتراف ملتا ہے۔ مثال کے طور پر والٹر کر (Walter Kerr) کی کتاب (1962) The Decline of Pleasure - امریکی مصنف نے اپنی اس سو آئین سو صفحات کی کتاب میں کہا ہے کہ ”امریکی باشندے آج خوش نہیں ۔ حالاں کہ امریکہ کی موجودہ نسل کا یہ حال ہے کہ اس کے پاس فرصت کے اوقات ہیں، ساز و سامان ہے، لمبی عمر ہے، وہ سب کچھ ہے جس کا اس کے آبا و اجداد نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا“۔ ٹائم (۱۸ جنوری ۱۹۷۱) نے اپنے ایک مقالہ A Voyage to Utopia میں کہا ہے: ”۲۰۸۰ میں ہر امریکی کی جیب میں مستقبل کا ایک خوبصورت خاکہ موجود ہوتا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے ہر جیب میں رو مال موجود ہوتا ہے۔ مگر آج امریکیوں کی جیبیں اس قسم کی کسی پر شوق چیز سے خالی ہیں۔ لوگ سماجی حالات سے سخت مایوس ہیں۔ اعلیٰ سماج بنانے کے تصورات ختم ہو گئے ہیں۔ زمین پر بہشت بنانے کا خیال اب اپنی ذات کے اندر بہشت ڈھونڈنے کی طرف مائل ہے۔ آج کی برباد دنیا میں مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے آئیڈیلزم کی آخری پناہ گاہ کے طور پر اپنی امیدوں اور اپنے عقیدہ کو روح کے از پر مرکوز کر دیا ہے۔ مادیات کے بجائے روحانیت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader