Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف توجہ دلائی جارہی ہے بعض لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ ارتقائی عمل ، تہذیب کو شعور کے ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جارہا ہے جو بالآخر انسان کو بلند ترین حقیقت سے ملا دے گا، یعنی خدا سے ۔ صنعتی دور کی ترقی کے بعد امریکیوں نے سمجھا تھا کہ وہ ٹکنالوجی میں نجات حاصل کر لیں گے۔ مصنفین نے بڑے شان دار قسم کے خاکے پیش کئے۔ مگر ٹکنالوجی انسانی مسرت کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے ذرائع نہایت آسانی سے انسانی ترقی کے بجائے انسانی بربادی میں استعمال ہونے لگے ۔ “مشیری جنت کے آخری مرحلہ میں پہنچ کر حیرت انگیز طور پر سنگین مسائل کا پیدا ہو جانا محض اتفاقی نہیں ہے۔ یہ خدا کی سنت کے تحت ہے ۔ وہ غافل انسانوں کی زندگی میں ایسے حالات پیدا کرتا رہتا ہے جو ان کے سامنے سوالیہ نشان بن کر کھڑے ہو جائیں : ظھر الفساد فى البر والبحر بما كسبت ايدى خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اعمال کے الناس ليذيقهم بعض الذى عملوا لعلهم يرجعون سبب، تاکہ اللہ ان کے اعمال کا کچھ مزا انہیں چکھا دے شاید وہ باز آجائیں۔ روم - اسم خدا نے اپنے حصہ کا کام کر دیا تھا۔ اب پیغمبر آخرالزمان کے وارثوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ اس زمین سے فائدہ اٹھا کر جدید انسان کے لئے دین حق کو قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے ۔ مگر ہمارے مصلحین کو یہاں کوئی کام نظر نہ آیا۔ اس کے برعکس وہ نہایت نادانی کے ساتھ اپنی مدعو قوموں سے لا حاصل قسم کی سیاسی کشتی لڑنے میں مصروف ہو گئے ۔ دور جدید میں جب مسلم ملکوں پر مغربی قوموں کا استیلا ہوا تو ساری اسلامی دنیا کے سامنے ایک سوال تھا : ”اس کے مقابلہ کے لئے کیا کیا جائے “ اس وقت کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ دینی تعلیمات اور رسول کی سنت کی روشنی میں مثبت منصوبہ بنا کر اس کو بروئے کار لانے کی جدوجہد کی جاتی ۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ ہمارے مجاہدین کا قافلہ منفی ردعمل کے راستوں پر چل پڑا۔ اس ردعمل کے دو بڑے دھارے تھے ۔ ایک وہ جو زیادہ تر دفاعی نفسیات کے تحت وجود میں آیا تھا ۔ یہ لوگ مروجۂ روایتی طریقوں کے مطابق مسلمانوں میں دینی روح پھونکنے کی کوشش میں لگ گئے ۔ مثلاً دینی تعلیم کے لئے درس گاہوں کا قیام ۔ عوام کو اسلامی عقائد اور عبادات سکھانے کے لئے دینی مجالس کا انعقاد ، مسلمانوں کے مخصوص مفادات کے تحفظ کی کوشش وغیرہ ۔ دوسرا طبقہ زیادہ انقلابی تھا اور اقدام کی تدبیریں تجویز کر رہا تھا ۔ بیسویں صدی کا نصف اول اور اس سے پہلے کی مسلم دنیا پر نظر ڈالیں تو کثیر تعداد میں ایسے علماء و مفکرین نظر آئیں گے جو قوم کے اندر نئے انقلاب کا صور پھونک رہے تھے۔ چند نام یہ ہیں : محمد بن اسمعیل الامیر (یمن) 1688 - 1698 شاہ ولی اللہ دہلوی (ہند) 1703 - 1762 محمد بن عبدالوہاب نجدی (سعودی عرب) 1703 - 1791 شاہ اسمعیل شہید (ہند) 1779 - 1831

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page