Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کے زبر دست مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا تھا : ان اھل اور با مستعدون لقبول الاسلام اذا یورپ کے لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، احسنت الدعوة اليه فقد قارنو ابين الدين اگر ان کو احسن طریقہ پر اسلام کی دعوت پیش کی جائے۔ الاسلامی وبین غیره توجد البون شاسعا انھوں نے اسلام اور دوسرے ادیان کا تقابلی مطالعہ من حيث يسر العقائد وقرب تنا دلھا، واقرب کیا تو انھوں نے پایا کہ عقائد کی سادگی اور عمل کی آسانی من اھل اوربا الى قبول الاسلام اھل امريكا کے اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے اور مغربی لانه لا يوجد بينهم وبين الامم الاسلامية قوموں میں قبولِ اسلام کے لئے سب سے زیادہ قریب عداوات موروثة ولا اضغان مدفونة اھل امریکہ ہیں۔ کیوں کہ ان کے اور اسلامی اقوام مثلھا هو الحال بين المسلمين والا وربين کے درمیان کوئی مورثی عداوت اور نفرت نہیں ہے جمال الدین افغانی، تالیف محمود ابو ریہ جیسا کہ مسلمانوں اور یورپ کے درمیان ہے ۔ قاهره ۱۹۶۶ ، صفحه ۲۱۳ سید جمال الدین افغانی کے شاگرد خاص مفتی محمد عبدہ نے لکھا ہے کہ جب میں ان کے ساتھ پیرس (۱۹۸۸) میں تھا تو میں نے ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ ہم سیاست کو چھوڑ دیں اور حکومت کی نظروں سے دور جا کر دینی اور تبلیغی کام کریں ، اس طرح ہم دس برس میں نتیجہ خیز کام انجام دے سکتے ہیں جب کہ سیاسی زدر آزمائی میں ہماری بہترین قوتیں رائیگاں جارہی ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اس کا جو جواب دیا، وہ یہ تھا : انما انت مثبط ( صفحه ۵۰ ) تم تو پست ہمتی کی باتیں کرتے ہو۔ انیسویں صدی میں دو ایسے انقلابی واقعات پیش آئے ، جو اسلامی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل تھے ۔ ایک ، سات سو سالہ استشراتی قبیح جو گویا اہل مغرب کی طرف سے اسلام کی صداقت کا عملی اعتراف تھا۔ دوسرے تنقید عالیہ (ہائی کر شٹزم ) کے فن کا وجود میں آنا جو عملاً قرآن کے سوا دیگر مذہبی صحیفوں کو تاریخی طور پر بے اعتبار ثابت کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس طرح انیسویں صدی نے حیرت انگیز طور پر دعوت اسلامی کے لئے بہترین علی زمین فراہم کر دی تھی۔ اسی کے ساتھ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں آزادی فکر کی تحریک انتہائی زور شور کے ساتھ اٹھی اور اس نے قدیم مذہبی تشدد کو بالکل ختم کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کو بالکل پر امن حالات میں جاری کیا جا سکے۔ ان حالات میں اسلام کی دعوت نہایت مؤثر طور پر اٹھائی جاسکتی تھی۔ مگر یہی وہ صدی ہے جب کہ ہمارے تمام مصلحین نے انتہائی ناقابل فہم طور پر مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی چھیڑ دی حتیٰ کہ قومیت کے نعرے (مثلاً د قومی نظریہ یا افغانی کا نعرہ مصر للمصريين، ۱۱۷) لگا کر مسلمان اور دیگر اقوام کے درمیان جوابی نیشنلزم کی دیوار کھڑی کر دی ۔ کچھ لوگوں کو دعوتی کام کا خیال آیا تو انھوں نے بھی صرف یہ کیا کہ دیگر قوموں کے خلاف مناظرہ بازی کا ہنگامہ جاری کر دیا ، جو اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نہیں دکھا سکتا تھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page