جدید امکانات
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ دلوں میں نفرت پیدا کرکے لوگوں کو پہلے سے کبھی زیادہ اسلام سے دور کردے۔ اس دور میں کچھ مزید علامتیں بھی ظاہر ہوئیں جنھوں نے عملی طور پر بتایا کہ اسلامی دعوت کو اٹھانے کے نئے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ مغرب میں بڑے بڑے اہل علم نے یا تو اسلام قبول کر لیا (مثلاً محمد اسد اور عبدالكريم جرمانوس) یا کھلے لفظوں میں اسلام کی برتری کا اعتراف کیا۔ مثلاً جارج برنارڈشا (۱۹۵۰-۱۸۵۶) ایسے لوگ بھی نکلے جنھوں نے علی الاعلان مسلمانوں سے کہا کہ وہ اسلام کے داعی بن کر اٹھیں تو آج ہر دور سے زیادہ اس کا امکان ہے کہ دنیا اسلام کو قبول کرلے (مثلاً لارْڈلوتھین ۳۰- ۱۹- ۱۸۸۲) مگر ان میں سے کوئی دافعہ بھی مسلمانوں کی آنکھ کھولنے والا ثابت نہ ہوا۔ وہ سیاست کی شمشان بھومی پر قربانیاں دینے ہی کو اسلام کا کمال سمجھتے رہے۔ تاہم ہماری مسلسل نادانیوں کے باوجود آج بھی خدا کے دین کی اشاعت کے امکانات پوری طرح باقی ہیں۔ ۱۹۷۳ء میں گابون کے صدر بانگو، ۱۹۷۷ء میں سنٹرل افریقہ کے صدر بوکاسا اور ۱۹۷۷ء میں مرا دک کے راجہ داتوک کا قبول اسلام اور اس طرح کی دوسری مثالیں موجودہ زمانہ میں اسلامی تبلیغ کے امکانات کی تازہ ترین علامت ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ ہمیں اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لئے اپنی جدوجہد کا آغاز کہاں سے کرنا چاہئے۔ فکری امامت اسی کو ملتی ہے جو اس کی مادی قیمت دینے کے لئے تیار ہو ، یہ ایک تاریخی مسلمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکری امامت ہمیشہ مادی امامت کے جلو میں چلتی ہے۔ آٹھویں صدی سے سولھویں صدی تک دنیا کی فکری امامت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی، کیوں کہ وہ اپنی تجارتی قوت اور سیاسی برتری کی وجہ سے اس کی قیمت دے سکتے تھے۔ اس زمانہ میں علم مسلمانوں کے علم کا نام تھا۔ قرطبہ کے بشپ الوارو Alvaro نے اسپین کے عیسائی مستغربین (Mozarabes) کے بارے میں اس زمانہ میں شکایت کی تھی کہ وہ اپنی مسیحی زبان (لاطینی) کو بھول گئے ہیں۔ تمام عیسائی نوجوان جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہیں، عربی زبان و ادب کے سوا کسی اور ادب سے دل چسپی نہیں رکھتے ، اس کے بعد جب یورپ نے مشینی طاقت دریافت کی اور اس کے نتیجہ میں بالآخر صنعتی فوقیت اور صنعتی بالا تری حاصل کرلی تو فکری امامت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر مغربی قوموں کی طرف چلی گئی۔ سترھویں صدی سے لے کر جنگ عظیم ثانی (۱۹۴۵ - ۱۹۳۹) تک یہ امامت مغربی یورپ خصوصاً برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ اس زمانہ میں یہ قومیں تمام دنیا کے طلبہ کے لئے علوم کا ماخذ بن گئیں۔ جنگ عظیم ثانی نے مادی امامت مغربی یورپ سے چھین کر امریکہ کے حوالے کردی۔ اس وقت سے امریکہ ساری دنیا کا فکری امام بنا ہوا ہے۔ آج کسی بھی علم میں تحقیق کرنے والا جن کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے ، وہ بیشتر امریکی مصنفین کی لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ تاہم واقعات نے ثابت کیا ہے کہ مغربی قوموں کی امامت کا راز زیادہ تر دو چیزوں میں تھا۔ اولاً استعمار ، اور اس کے بعد تیل کا سستا ایندھن۔ اور دونوں چیزوں کے حصول کا ذریعہ حیرت انگیز طور پر مشرق وسطیٰ ممالک ہی تھے۔ جنگ عظیم ثانی کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے استعمار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ موجودہ صدی کے ربع ثالث میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے امریکہ کی امامت کی بنیادیں بھی ہلا دی ہیں۔ ۱۹۷۳ء کے دو واقعات، ڈیٹ نام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader