Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کی دس سالہ جنگ میں امریکہ کی پسپائی اور ڈالر کی تخفیفِ زر Devaluation اس بات کی علامت تھے کہ فوجی اور اقتصادی اجارہ داری اب امریکہ کے لئے مخصوص نہیں رہی۔ عربوں کی طرف سے تیل کا جزوی بائیکاٹ اور تیل کی قیمت میں اضافہ (۱۷۰ء میں ۱۵ ڈالر فی بیرل، ۱۹۷۵ء میں ۲۵ ۱۱ ڈالر فی بیرل) نے ثابت کیا ہے کہ صنعتی دنیا کا شہنشاہ تیل ہے اور حیرت انگیز طور پر اس تیل کا بڑا حصہ ان مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے ہے جو خلیج فارس کے ممالک کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور ناخوش گوار مقدر امریکہ کے حصہ میں آیا ہے۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جدید انسان نے صنعتی تہذیب میں اپنے یقین کو کھو دیا ہے۔ یہ تہذیب آدمی کو زندگی کی حقیقی بنیاد فراہم نہ کرسکی۔ دوسری طرف ایسے ایسے پیچیدہ مسائل پیدا کر دیئے جن کا کوئی حل اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ جنگ، معاشی استحصال، فضا آلودگی (Pollution) جرائم، عریانی، خاندانی انتشار اور اسی طرح کے دوسرے مسائل صنعتی تہذیب کی وہ پیداوار ہیں جن کا کوئی حل موجودہ تہذیب کے ڈھانچہ میں نہیں ہے۔ ان چیزوں نے جدید انسان کو تشکیک میں مبتلا کر دیا ہے۔ عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ انسان کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے جو اس کو اس کے مقصد حیات سے آگاہ کرے اور اس کے حقیقی تقاضوں کا جواب ہو۔ یہ اگر چہ مخصوص طور پر امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ مگر امریکہ جوں کہ اس وقت صنعتی تہذیب کی امامت کر رہا ہے، اس لئے فطری طور پر وہ اس کے مقدر کا سب سے زیادہ وارث بنا ہے، اسی کا ایک مظہر یہ واقعہ ہے کہ سوامی ویویکانند (۱۹۰۲ - ۱۸۶۳) نے انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ کا سفر کیا تو ان کو وہاں کام کا میدان نہ مل سکا۔ مگر آج ہندوستانی سادھو امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں اپنے شاگرد پارہے ہیں۔ جدید مغربی انسان اپنے تمدن سے بیزار ہو کر کسی نئی چیز کو پانے کے لئے بیتاب ہے۔ اور جب ”دین حق“ نہ مل رہا ہو تو وہ ہر اس چیز کی طرف دوڑ پڑتا ہے جو اس کو دور سے چمکتی ہوئی دکھائی دے۔ فرانسیسی مفکر آندرے مالرو (۱۹۰۱ - ۱۹۷۶) نے کہا ہے کہ یورپ کا عروج ۱۹۵۰ء میں شروع ہوا۔ یہ دور پانچ سو برس رہا۔ ۱۹۴۹ء میں ماؤ کا چین میں برسرِ اقتدار آنا اس دور کے خاتمہ کا آخری اعلان تھا۔ مغربی تہذیب جس طرح روحی تہذیب کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوئی تھی اسی طرح اب دہ کسی آنے والی تہذیب کے لئے جگہ خالی کر رہی ہے۔ (ٹائم ۸ اپریل ۱۹۷۶) مستقبل قریب میں امریکہ کا انہدام یقینی ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا ایک فکری خلاصے سے دوچار ہوگی جس کو پر کرنے کے لئے اس وقت کوئی دوسری قوم موجود نہیں ہے۔ چین اور روس بظاہر ہر دور جدید کے طاقت در دیون کرا بھرے ہیں مگر وہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا اندرونی تضاد ہے۔ اشتراکی ڈکٹیٹر شپ جس نے ان ملکوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو مخصوص میدانوں میں مرتکز کر کے طاقت در قوم بن جائیں۔ وہی اس میں مانع ہے کہ ان ملکوں میں کوئی فکری ارتقا وجود میں آسکے۔ کلیت پسندانہ نظام کے تحت تکنیکل علوم ترقی کر سکتے ہیں۔ مگر فکری علوم کی ترقی کے لئے آزاد فضا ناگزیر طور پر ضروری ہے جو اشتراکی نظام میں موجود نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ چین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page