Urdu book · اسلام

شہادت حق

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایرانہیں کوخبردار کرنے انسان کے خبردار کرنے کے لئے دو خصوصی انتظام فرمائے۔ ایک یہ کہ ہر آدمی کی فطرت میں صحیح بیاپر اللہ تعالی نے انسان کوبردار کرتے کے دور اور غلط کا شعور رکھ دیا : فالهمها فجورها وتقواها ( شمس - ۸ ) موسمی مقام فرماتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہر آدمی کی طرف سے۔ اس پھر اس کو سمجھ دی برائی کی اور پیچ کر چلنے کی ۔ حقیقت کا یہ تصور پیدائش کے اول روز انسان کے اندر پیوست کر دیا گیا تھا : سـایه روپیه کی وإذ اخذ ربك من بنی آدم من ظهورهم ذریتهم واشهدهم على انفسهم الست بربكم قالوا بلی شهدنا ان تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هذا غافلين (اعراف ۱۷۲) اور جب تمھارے رب نے اولادِ آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو ان کی اپنی ذات پر گواہ بنایا، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں، بولے ہاں ہم گواہ ہیں، تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ پھر اس فطری پیش بندی کے بعد دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ رسالت کا باقاعدہ سلسلہ جاری کیا گیا تاکہ براہ راست انسانی عمل کے ذریعہ ہر آدمی تک حقیقت کا علم پہنچ جائے : رسلامبشرين ومنذرين لألايكون للناس علی اللہ حجة بعد الرسل (نساء - ۱۶۵) ہم نے پیمبر بھیجے خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے تا کہ لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے پیغمبروں کے بعد کوئی عذر باقی نہ رہے۔ نبوت کا یہ سلسلہ آغازِ حیات سے جاری ہے۔ حضرت آدم نہ صرف پہلے انسان تھے بلکہ پہلے نبی بھی تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں خدا کی مشیت ہوئی کہ نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا جائے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۵۷۲ - ۵۸۰) آخری نبی تھے جو خدا کی طرف سے آئے۔ مگر جہاں تک پیغام رسانی کے کام کا تعلق ہے ، وہ اب بھی اسی طرح مطلوب ہے جس طرح وہ پہلے مطلوب تھا۔ اس کے لئے اب امت محمدی کو چن لیا گیا ہے دھو اجتباكم ، ہمارے اوپر آخری رسول نے دین کی کامل گواہی دے دی اور ہماری ذمہ داری یہ قرار پائی کہ ہم قیامت تک نبی کی تبعیت میں دنیا کی فونون پر حق کی گواہی دیتے رہیں : ليكون الرسول شهیداً عليكم وتكونوا شهداء على الناس (حج) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں کے اوپر گواہ ہو۔ یہ کام کوئی ضمنی کام نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مقصدِ وجود ہے۔ قرآن کے مطابق رسول کی رسالت کا تحقق اس پر موقوف تھا کہ وہ پیغام رسانی کے کام کو اپنے مخاطبین کے اوپر پوری طرح انجام دیں۔ اگر وہ اس کو انجام نہ دیتے تو خود فریضہ رسالت نا تمام رہ جاتا : يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته (مائدہ (۶۷) اے رسول جو کچھ تمھارت اوپر تمھارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اس کو پہنچادو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے خدا کا پیغام نہیں پہنچایا۔ یہ ذمہ داری جو رسول پر ہے، وہی آپ کے متبعین پر بھی ہے ۔ ۔ انا ومن اتبعنی ، یوسف، ۱۰۸) رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page