Urdu book · اسلام

جدید امکانات

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

اور روس کی ساری علمی ترقیان ٹیکنکل علوم میں ہیں، فکری علوم میں ان کا کوئی کارنامہ دنیا کے سامنے اب تک نہ آسکا۔ اس کے بعد جاپان ہے۔ بلاشبہ جاپان نے صنعتی ترقی کے میدان میں معجز نما کارنامے انجام دیئے ہیں۔ مگر جاپان بنیادی طور پر ایک ٹیکنکل معاشرہ ہے اور مستقبل بعید تک یہ امید نہیں کہ وہ فکری حیثیت سے کوئی مقام حاصل کرسکے۔ تقریباً یہی حال موجودہ جرمنی کا ہے۔ مغربی قوموں کا انہدام، صنعتی تہذیب سے مایوسی اور عمومی فکری خلا۔ ان چیزوں نے دین حق کے حاملین کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اگر وہ بیدار ہو جائیں تو اسلام کو دوبارہ نوع انسانی کی امامت کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں ۔ اس اعلیٰ مقصد کے لئے جدوجہد میں جو واحد چیز رکاوٹ بن سکتی تھی، وہ جدید صنعتی دور میں وسائل کے اعتبار سے ان کا پیچھے ہو جانا ہے۔ تاہم قدرت نے تیل کے ذخائر کا بڑا حصہ ان کی زمین کے نیچے رکھ کر حیرت انگیز طور پر ان کی اس پس ماندگی کی تلافی کر دی ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان چوتھی جنگ (اکتوبر ۱۹۷۳ء) کے بعد تیل کی جس عالی اہمیت کا مظاہرہ ہوا ہے، اس کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ تیل کی قدرتی دولت مسلم قوموں کی صنعتی پس ماندگی کی نہ صرف تلافی ہے بلکہ اس نے موجودہ حالات میں انہیں ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے کہ اگر وہ اتحاد اور نظم کے ساتھ کام کرنا سیکھ جائیں تو عالمی اقتصادیات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بہترین وقت آ گیا ہے کہ اس مستقبل کی طرف سفر شروع کر دیا جائے جو صرف ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ اسلام کے احیار کے لئے مادی اسباب فراہم کرنا یقیناً ہمارے لئے ضروری ہے۔ مگر ہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ یہاں ایک سنگین حقیقت ہماری راہ میں حائل ہو گئی تھی پچھلے تین سو برس سے جب کہ مغربی دنیا مادی ترقی کی جدوجہد میں مصروف تھی، اسلامی ممالک زمانہ کی تبدیلی سے بے خبرہ کر مسلسل غفلت میں پڑے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مادی ترقی کی دوڑ میں دوسری قوموں سے بہت پیچھے چلے گئے۔ حالیہ برسوں میں مسلم دنیا میں کچھ جدوجہد کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ مگر اپنے حریف کے مقابلہ میں ہم اتنا زیادہ پیچھے جا چکے ہیں کہ ہزار کوششوں کے بعد جب ہم صنعتی دور میں پہنچیں گے تو مغرب، ایلین ٹافلر کے الفاظ میں، مافوق صنعتی دور (Super Industrial Age) میں پہنچ چکا ہو گا۔ وہ واقعہ جس کو اقتصادی ماہرین، جغرافی اتفاق (Geographical Accident) کہتے ہیں، شاید اسی کی تلافی کے لئے قدرت کی طرف سے ایک انتظام ہو۔ یہ ایک ایسی دولت ہے جس سے مسلم دنیا نہ صرف اپنی صنعتی پس ماندگی کی تلافی کر سکتی ہے بلکہ وہ قیمت بھی ادا کر سکتی ہے جو دورِ جدید میں اسلام کے احیار کی مؤثر جدوجہد کے لئے درکار ہے۔ اس باب کو میں منگموری واٹ کے ایک اقتباس پر ختم کروں گا: "دنیا بہت تیزی سے ایک ہوتی جا رہی ہے اور اس ایک دنیا میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اور یکسانیت ہو۔ اس رجحان کی وجہ سے یقیناً وہ دن آئے گا جب کہ یہاں اخلاقی اصولوں کا ایک ایسا نظام ہوگا جو نہ صرف عالمی جواز رکھتا ہو گا بلکہ وہ فی الواقع ساری دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہو گا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد اتمام نوع انسانی کے لئے ایک عملی اور اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر رائے قائم کر سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page