Urdu book · اسلام

شہادت حق

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

کی رسالت کے تحقق کے لئے ضروری تھا کہ وہ ہدایت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔ اسی طرح امت محمدی کا امتِ محمدی قرار پانا بھی اس پر منحصیر ہے کہ وہ رسول کے بعد اس پیغام کو اگلی نسلوں تک پہنچاتے رہیں۔ ہم کو امت محمدی کی جو نسبت ملی ہے وہ اسی بنا پر ملی ہے کہ ہم رسول کے بعد رسول کے اس کام کو قیامت تک لوگوں کے اوپر انجام دیتے رہیں گے۔ یہ واقعہ کہ اسلام کے علاوہ کسی دین پر مرنا اپنے آپ کو آگ کے خطرہ میں مبتلا کرنا ہے (کل من مات علی غیر دین الاسلام فھو فی النار) ایک شخص کو نہ صرف خود دین حق پر چلنے کے لئے مجبور کر دیتا ہے بلکہ اس کے اندر یہ بیتابی بھی بھڑک اٹھتی ہے کہ وہ دوسرے بنائے نوع کو اس خطرے سے بچانے کی کوشش کرے۔ ابن عبدالبر نے معاویہ ابن حیدہ قشیری کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعوت پہنکائی تو اسی کے ساتھ آخر میں ارشاد فرمایا: ما لی امسك بحجزکم عن النار، الا وان ربی داعی وانه سائلی، هل بلغت عبادی ، فاقول رب قد بلغت الا فلیبلغ شاهدکم غائبکم (الاستیعاب) میں کیوں ایسا کرتا کہ تمھاری کمر مکڑ کر تم کو آگ سے روکو۔ مگر یہ کہ میرا رب مجھے بلائے گا اور یقینا وہ مجھ سے پوچھے گا ، کیا تو نے میرے بندوں تک پہنچا دیا تھا۔ تو میں کہہ سکوں گا ، اے میرے رب میں نے پہنچا دیا تھا ، سن لو، پس تم میں سے جو حاضر ہیں وہ غائب تک پہنچا دیں ۔ 1 ، کہ مٹا کر انجام دینا۔ سری۔ انداز نہیں۔ تو میں۔ یہ امت مسلمہ کی وہ اہم ترین ذمہ داری ہے جسے ہر اختلاف کو مثالرا انجام دینا ہے۔ طبرانی نے حضرت مسور بن مخزمہ کے واسطے سے نقل کیا ہے : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على أصحابه فقال : ان الله بعثني رحمة للناس كافة فنادوا عنى ، رحمكم الله ، ولا تختلفوا كما اختلف الحواريون على عيسى عليه السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آئے اور فرمایا، اللہ نے مجھے تمام انسانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے، پس تم لوگ، اللہ تم پر رحم کرے، میری طرف سے اس فرض کو ادا کرو اور اختلاف نہ کرو جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ جس طرح نبی مبعوث ہوتا نہا ، اسی طرح یہ امت گویا اس مقصد کے لئے دائمی طور پر مبعوث ہے۔ خلیفہ ثانی کے زمانہ میں جب ربعی بن عامر سرداران فارس کے دربار میں سفیر بن کر گئے اس وقت جو گفتگو ہوئی اس کا ایک ٹکڑا یہ تھا: بن ربعي بن عامر سردارانِ فارس کے دربار میں اعلام ہے فقالواله ما جاء بكم ؟ فقال الله ! ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ، ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الأديان الى عدل الإسلام ، فارسلنا بدينه الى خلقه لندعوهم اليه (البدايه والنهايه ) تیرب کرے، اس وقت وہ صورت تھی اس کا ایک اور آئینہ تھا۔ سرداروں نے پوچھا: تم لوگ کس لئے یہاں آئے ہو۔ ربعی بن عامر نے جواب دیا: اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ جس کو وہ چاہے، اس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت میں لائیں، دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف لائیں اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لائیں۔ پس اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page