Urdu book · اسلام

شہادت حق

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ یہ ذمہ داری ایک عالمگیر ذمہ داری ہے جو کسی جزفاتی حد پر نہیں رکھتی۔ صاحب البدایہ نے کسری کے دربار میں نعمان بن مقرن کی جو تفصیلی تقریر نقل کی ہے، اس میں انھوں نے کسری کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا : وأمرونا أن نند أدعونا من الامم فندعوفم الى (عرب میں دین پھیل گیا تو ہمارے نبی نے) ہم کو حکم دیا کہ ہم الا انصاف فنحن ندعوك الى دينا و هو دين الاسلام اپنے قریب کی قوموں میں جائیں اور ان کو عدل کی طرف حسن الحسن و قبیح اقبیح كله بلائیں پس ہم تم لوگوں کو دین اسلام کی طرف بلاتے ہیں (البدایہ والنہایہ جلد ۷ صفحہ ۴۱) جو اچھا ہے اس کو اس دین نے اچھا بتا دیا ہے، جو برا ہے اس کو اس دین نے برا بتا دیا ہے۔ صحابہ کرام کے سامنے یہ ذمہ داری انتہائی طور پر واضح تھی۔ خلافت فاروقی کے زمانہ میں عمرو بن العاص نے مصر کے مذہبی ذمہ داروں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو اس میں کہا کہ ہمارے پیغمبر کو خدا نے انسانیت کے نام ایک پیغام لے کر بھیجا تھا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری کو کمل طور پر ادا فرمایا اور اپنے بعد ہمارے لئے ایک واضح طریقہ چھوڑ گئے جس پر چل کر ہم عالم انسانیت کو یہ خدائی پیغام پہنچاتے رہیں (قد قضنى الذي عليه وتكنا على الواضحة، ابن جریر، ج ۳، صفحہ ۲۲۷) رسولوں کے بھیجنے کا اولین مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اعلان داسرار (نوح۔ ۹) کے ذریعہ حق کے پیغام سے لوگوں کو خبر دار کردیں۔ یہ خدا کی طرف سے آگہی اور پیغام رسانی کا ایک کام ہے جو اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ کائنات جس اسکیم کے تحت بنی ہے اور بالا خر اس کا جو انجام ہونے والا ہے، اس سے لوگ مطلع ہو جائیں، جو کچھ غیب میں ہے، وہ اس وقت کے آنے سے پہلے لوگوں کے علم میں آجائے جب موجودہ دنیا کی بساط الٹ دی جائے گی اور غیب ، شہود بن جائے گا۔ اس سلسلہ میں ہماری جو ذمہ داری ہے، وہ یہ کہ لوگوں کو اس اخروی حقیقت سے آگاہ کردیں کہ وہ ایک خدا کے بندے ہیں اور انھیں اپنے کارنامہ حیات کا حساب دینے کے لئے اس کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ متکلمانہ حکمت کا تقاضا کسی وقت یہ ہوسکتا ہے کہ غیر مسلموں کے سامنے اسلام کو ایک ”بہتر دنیوی نظام“ کی حیثیت سے پیش کیا جائے ۔ مگر یہ یقینی ہے کہ یہ بات صرف متکلمانہ ضرورت کی حد تک صحیح ہے۔ اگر اسی کو دعوت اسلامی کا اصلی اور حقیقی انداز قرار دیا جائے تو وہ اپنی صداقت کھو دے گی۔ کیوں کہ اسلام کو اگر اصلاً بہتر دنیوی نظام کی حیثیت سے پیش کیا جانے لگے تو ایسی صورت میں دعوت اسلامی کی حیثیت مخاطب کے ذہن میں یہ بن جائے گی کہ وہ مسائل عالم کو حل کرنے کی ایک تدبیر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا مقصد معاشی اور سیاسی عذاب سے نجات دلانا ہے جب کہ انبیاء حقیقتہ اس لئے آئے تھے کہ وہ لوگوں کو آسمانی عذاب سے نجات کا راستہ بتائیں : يلقى الروح من امره على من يشاء من عباده خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، اپنے حکم سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page