شہادت حق
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
لیندریوم الطلاق (مومن ١٥) وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرا دے۔ اس کارِ تبلیغ کی انتہائی صورت مدعو کے لحاظ سے تو یہ ہے کہ وہ دعوت کو قبول کرکے اپنی زندگی اس کے مطابق بنالے۔ مگر داعی کے لحاظ سے اس کی انتہائی صورت یہ ہے کہ وہ اپنی بات کو آخری حد تک لوگوں تک پہنچادے۔ وہ حقیقت کو ان کے اوپر اس طرح واضح کر دے کہ پھر اس کے بعد کسی کے لئے عذر اور تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ چنانچہ انبیار کے لئے اتمام حجت کا جو معیار مقرر کیا گیا تھا وہ یہی تھا کہ وہ اپنی بات کو پوری طرح لوگوں تک پہنچادیں۔ اس سے آگے انہیں کسی اور چیز کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ وہ تمام قومیں جن کا قرآن میں اس حیثیت سے ذکر ہے کہ انہوں نے انبیاء کے پیغام کو نہیں سنا اور ان کی نافرمانی کرکے عذاب الہی کی مستحق ہوگئیں ، وہ وہی ہیں جن پر نبی نے اپنی تقریروں اور گفتگوؤں کے ذریعے کام کیا تھا۔ بات پہنچانے سے زیادہ کچھ اور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اس حکم کی تعبیر کے لئے جو مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ سب اطلاع اور آگہی کے معنی ہیں۔ مثلاً صدع بالامر (حجر ۹۴) تبیین ذکر (نحل ۴۴) ایذان وحی (انبیاء ۶-۱۰۹) ابلاغ رسالة (اعراف ۶۷) قص آیات (اعراف ۳۵) قرأت قرآن (بنی اسرائیل ۱۱۰) تلاوت کتاب (عنکبوت ۵۱) انذار و تبشیر (سباء ۲۸) نداءللایمان (آل عمران ۱۹۳) دعوت الی الاسلام (صف ۷) تبلیغ ما انزل الله (مائده ۶۷) تذکیر بایام الله (ابراهیم ۵) وغیرہ بیہقی نے مغیرہ ابن شعبہ سے روایت کیا ہے کہ ایک روز آپ نے ابو جہل کے سامنے دعوت پیش کی تو اس نے کہا: یا محمد ! هل انت منتہ عن سب آلہتنا ، اے محمد ! کیا تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے رک هل تريد الا ان تشهد انك قد بلغت، فحن جاؤ گے تم یہی تو چاہتے ہو کہ ہم گواہی دے دیں کہ تم نے نشهد ان قد بلغت پہنچا دیا تو ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنے اصحاب سے متعدد بار یہ گواہی لی کہ آپ نے پیغام الہی کو انہیں پوری طرح پہنچادیا ہے۔ امام احمد نے ثعلبہ بن عباد العبدری سے روایت کیا ہے کہ آپ ایک تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔ حمد و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا : يا ايہا الناس انشد کم اللہ ان کنتم تعلمون انی قصرت اے لوگو! میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں ۔ تمھارے علم میں اگر میں عن شيئ من تبلیغ رسالات ربی عن وجل لما اخبرتمونی نے اللہ کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہو تو ضرور ذالك قال: فقام رجال فقالوا: نشہد انك قد مجھ کو اسے بتا دو ۔ لوگ کھڑے ہوئے اور کہا، ہم گواہی دیتے بلغت رسالت ربك ونصحت لامتك وقضيت ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے اور اپنی الذي عليك امت کی خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اور جو ذمہ داری آپ پر تھی اس کو پورا کر دیا۔ داعی اسی جذبہ کے تحت دعوتی کام کا آغاز کرتا ہے۔ وہ حکمت اور خیر خواہی کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی بات آخری حد تک لوگوں کو سنا دینا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس مہم کے دوران میں جو واقعات پیش آتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader