Urdu book · اسلام

شہادت حق

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کا تعلق اصلاً کار تبلیغ سے نہیں ہے بلکہ ان لوگوں سے ہے جن کے اوپر شہادت و تبلیغ کا کام کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کوئی ایک صورت متعین نہیں کی جاسکتی اور نہ اس کی کسی مخصوص مثال کو لازمی طور پر شہادت کی تشریح قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ داعی صرف پکارتے پکارتے مرجائے۔ ہوسکتا ہے کہ وقت کی بعض اہم شخصیتیں اسلام قبول کرلیں اور ان کے اترے خدا کا دین یکایک پورے علاقے میں پھیل جائے۔ ہوسکتا ہے کہ مخاطبین سے ٹکراؤ ہو اور وہ تنہا یا اقتدار سے مل کر تحریک کو ختم کر دینے کی سازش کریں۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کردے کہ داعی اول یا اس کے بعد آنے والے اس کے ساتھی ملک کے اقتدار پر قابض ہوجائیں۔ پھر اقتدار پر قبضہ کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ محض ایک سیاسی غلبہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تحریک اتنے وسیع پیمانہ پر اپنے مخاطبین کا تعاون حاصل کرے کہ وہاں اسلام کی بنیاد پر ایک منظم سوسائٹی وجود میں آجائے۔ یہ ساری صورتیں ممکن ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی مثالیں انبیائے دعوتی جدوجہد کی طویل تاریخ میں موجود ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی بھی صورت شہادت حق کی ادائیگی کی شرط یا اس کی معیاری صورت نہیں ہے۔ شہادت یا دعوت کی ادائیگی صرف یہ ہے کہ خدا کے پیغام کو حقیقی ’’نصح‘‘ (اعراف۔ ۶۸) کی تمام شرائط کے ساتھ قول بلیغ (نساء۔ ۶۳) کی زبان میں لوگوں تک پوری طرح پہنچا دیا جائے اور اس پہنچانے میں خواہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیش آئے، اس کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوگا، وہ اس جدوجہد کے دنیوی نتائج یا دوسرے لفظوں میں تاریخ دعوت کے واقعات ہیں جو مختلف حالات میں مختلف شکل اختیار کرتے ہیں۔ گویا داعی کی نسبت سے جو کچھ مطلوب ہے وہ صرف یہ کہ خدا کے پیغام کو وہ آخری حد تک پہنچادے اور آخر عمر تک پہنچاتا رہے۔ بقیہ تمام چیزیں دراصل وہ واقعات ہیں جو مدعو کی نسبت سے پیش آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان واقعات کی کوئی لگی بندھی فہرست نہیں بنائی جاسکتی اور نہ ان کی نوعیت کا فرق داعی کے کام کے ناقص یا کامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ غیر اہل اسلام پر دعوت کامی کیا جائے گا، اس میں ان کے سامنے بیک وقت سارا دین پیش کرنا ضروری نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ پہلے دین کی اصولی تعلیمات انھیں بتائی جائیں۔ خدا کا تصور، رسالت کا تصور آخرت کا تصور، یہ وہ چیزیں ہیں جو اولا غیر مسلم مخاطبین کے سامنے رکھی جاتی ہیں اور مسلسل مختلف پہلوؤں سے ان کے سامنے اس کی وضاحت کی جاتی ہے، جہاں جہاں ان کا ذہن اٹک رہا ہوتا ہے اس کو مؤثر استدلال کے ذریعہ ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ اسے مان لیتے ہیں تو انھیں ان احکام کی تعلیم دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے لئے مقرر کئے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن ۹ھ میں حضرت معاذ بن جبل رض کو یمن کی طرف دعوتی مشن پر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب کے ایک گروہ سے ملوگے تو انھیں سب سے پہلے کلمہ توحید کی طرف بلانا (فليكن اول ما تدعوهم اليه شهادة ان لا اله الا الله) جب وہ اس کو مان لیں تو اس کے بعد انھیں بتدریج نماز اور دیگر اعمال شریعت کی تعلیم دینا: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : قال رسول الله عبداللہ بن عباس رض کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page