شہادت حق
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
صلی اللہ علیہ وسلم لمعاذ بن جبیل رضی اللہ عنہ حین معاذ بن جبیل رضہ کو مین روانہ کرتے ہوئے فرمایا ، تم ایک بعثہ الی الیمن ، انک ستاتی توماً اھل کتاب - فاذا ایسی قوم میں جارہے ہو جو اہل کتاب ہے۔ جب تم وہاں جئتھم فاد عھم الی ان يشھد وا ان لا الہ الا اللہ و پہنچو تو اولاً انھیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی ان محمد ارسول اللہ نان اطاعوا لك بذلك دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم فاخبرھم ان اللہ فرض علیھم خمس صلوات کل یوم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ اسے مان لیں تو انھیں بتانا دليلة فان اطاعوا لك بذلك فاخبرھم ان اللہ کہ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض فرض علیھم صد قة توخذ من اغنیا ئھم فترد علی کی ہیں۔ جب وہ اس کو بھی مان لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ فقراء ھم - فان اطاعوا لك بذلك فایاك وكرائم نے ان پر صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مال داروں سے اموالھم (بخاری) لیا جائے گا اور ان کے فقر اء میں تقسیم کیا جائے گا۔ جب وہ اسے بھی مان لیں تو تم ان کے بہترین اموال سے بچنا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء کو ابتدائی دعوتی مرحلہ میں صرف بنیادی تعلیمات دی جاتی تھیں۔ وہ عرصہ دراز تک نہیں کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ اس کے بعد جیسے جیسے عملی حالات پیدا ہوتے تھے اس کے مطابق تفصیلی ہدایات نازل کی جاتی تھیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نبی کسی قوم کے پاس آیا تو اس نے پہلے ہی مرحلہ میں ایک پورا سماجی اور تمدنی نظام مرتب کرکے لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ اسلامی اسٹیٹ قائم کرکے ان تمام قوانین کو زندگی کے سارے شعبوں میں جاری کرو۔ مذکورہ حدیث میں جن احکام کا ذکر ہے وہ سب اس وقت تک اتر چکے تھے۔ مگر داعی کو آپ ہدایت فرماتے ہیں کہ ان سب کو بیک وقت ان کے سامنے پیش نہ کرنا بلکہ مدعو کے حالات کے اعتبار سے بتدریج ان کو ان کے سامنے لے آنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ احکام جس طرح ابتداءً تدریجی طور پر نازل ہوئے ہیں، اسی طرح نازل ہونے کے بعد بھی وہ تدریجی طور پر مطلوب ہیں۔ نازل ہونے کی ترتیب ہی دائمی طور پر ان کے مطلوب ہونے کی ترتیب کو بتا رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ابتداءً تو ان کا نزول تدریجاً ہوا ہو اور نزول کے بعد ان کی تدریجی حکمت منسوخ ہوگئی ہو اور اب وہ ہر حال میں مجموعی طور پر مطلوب ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader