Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ارکانِ اربعہ ایمان کے بعد اسلامی نظام میں چار چیزوں کو ”ارکان“ کا درجہ حاصل ہے ــــ روزہ، نماز، زکوٰۃ اور حج۔ یہ چار چیزیں، اپنی معنوی حقیقت کے اعتبار سے، وہ چار اجزار ہیں جن سے مل کر وہ کل وجود میں آتا ہے جس کے مجموعہ کو اسلام کہتے ہیں۔ روزہ ، عالم مادی سے اوپر اٹھنے کا نام ہے تاکہ آدمی اپنے آپ کو خدا سے مربوط کر سکے۔ نماز کی روح خدا کی یاد ہے۔ زکوٰۃ کی حقیقت ایثار ہے جو اسلام کے اس حصہ کا گویا خلاصہ ہے جس کو اخلاق و معاملات یا حقوق العباد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حج کی اصل خدائی مشن کے لئے قربانی ہے۔ یہ عظیم ترین دائیٔ حق سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی داعیانہ زندگی کی تجدید کا عہد ہے۔ یہ چار ارکان ایک اعتبار سے مجموعہ اسلام کے چار بنیادی اجزار کی علامتیں ہیں، اور دوسرے اعتبار سے وہ آدمی کو اس کے لئے تیار کرتے ہیں کہ وہ اسلام کو پوری طرح اپنی زندگی میں اختیار کر سکے۔ اسلام کی ہر عبادت اگرچہ ایک خاص روح کی حامل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ عبادات کی ترکیب اس طرح کی گئی ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد کو پورا کرتے ہوئے دیگر ذیلی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بھی بن سکے۔ اس معاملہ میں اسلام کی مثال انسانی جسم کی سی ہے۔ ہمارے ہر عضو کا ایک علیحدہ انفرادی وظیفہ ہے مگر اسی کے ساتھ وہ پورے جسم کے ساتھ اس طرح مربوط ہے کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ۱۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ صلاحیتوں کے فرق کے ساتھ ہر ایک اس سے اپنا کچھ نہ کچھ حصہ پلے۔ مثلاً کسی کا روزہ اور نماز، اگر اس کو مقام اقتراب (علق۔ ۱۹) تک نہ پہنچائے تو کم از کم اس کو مقام تقویٰ تک پہنچادے جب کہ نماز اس کے لئے فحش اور منکر چیزوں سے روکنے والی بن گئی ہو (عنکبوت ۔ ۴۵) اور روزہ حدیث کے الفاظ میں قول زور اور فسق و صخب سے دور رکھنے کی ایک تربیت ثابت ہو، یہ اس کے لئے شیطانی حملوں کے مقابلہ میں ایک ڈھال (جُنّتہ) کا کام دینے لگے۔ ۲۔ ہر عبادت کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے مخصوص انفرادی مقصد کو پورا کرتے ہوئے دیگر عبادات سے بھی پوری طرح جڑی ہوئی ہو۔ مثلاً حج کا اصل مقصد آدمی کو داعیانہ زندگی کے لئے تیار کرنا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کی شکل ایسی رکھی گئی ہے کہ مقامات مقدسہ کی زیارت اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران آدمی کو محبت الہی اور استحضارِ آخرت کا خصوصی حصہ ملتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے بعد وہ اس طرح پاک وصاف ہوکر لوٹتا ہے کہ دوبارہ زیادہ بہتر طور پر دینی زندگی شروع کرنے کے قابل ہو سکے۔ ۳۔ ہر عبادت اصلاً، کسی نہ کسی طور پر بندے کو خدا سے جوڑنے کے لئے ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کی تشکیل اس طرح کی گئی ہے کہ زندگی کے دوسرے تقاضے بھی پورے ہوں، یاکم از کم وہ ان کے لئے ایک بہتر محرک ثابت ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page