ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً نماز باجماعت یا حج کے عالمی اجتماع کے ذریعہ اہل اسلام میں باہمی اتحاد کو فروغ دینا ، روزہ میں صحت جسمانی کے فوائد ، زکوٰۃ کے ذریعہ معاشیات کا انتظام درست کرنا وغیرہ۔ روزہ روزہ کی اصل صوم ہے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کے لیے دوسری جگہ " تبتل الی الله (مزمل ۔ ۸) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی بے تعلق ہونا ، کنارہ کشی اختیار کرنا۔ روزہ کی باقاعدہ فرضیت ، دوسرے اکثر اعمال کی طرح ، مدنی دور میں ۶ھ میں ہوئی ہے ، تاہم روزہ کسی نہ کسی شکل میں اس سے پہلے بھی موجود تھا۔ حضرت عائشہ رض بتاتی ہیں کہ " قریش جاہلیت میں عاشورار کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے " (صحیح مسلم) حتیٰ کہ بعثت سے پہلے غار حرا میں آپ کے قیام کو شامل کر لیا جائے تو روزہ وہ عبادت قرار پاتی ہے جہاں سے اسلامی زندگی میں داخلہ کا آغاز ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے جب مشیت الہی کا یہ فیصلہ ہوا کہ انہیں کتاب الہی کا حامل بنایا جائے تو حکم ہوا کہ کوہ طور پر چلے جاؤ اور وہاں لوگوں سے علیحدہ ہو کر روزہ اور عبادت میں مشغول رہو۔ انھوں نے مسلسل چالیس دن اسی عالم میں پہاڑ پر گزارے۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب خدا ان سے ہم کلام ہو : وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ (اعراف - ۱۴۳) اور جب موسیٰ پہنچے ہمارے وقت پر اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا۔ " حضرت مسیح نے اپنی نبوت کے آغاز سے قبل ۴۰ دن تک روزہ رکھا تھا " ، (جیویش انسائیکلو پیڈیا) اس کے بعد ان پر وہ الہام ہوا جو " پہاڑی کا وعظ ، کی شکل میں انجیل میں موجود ہے۔ اسی طرح پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے کہ کے قریب ایک غار (حرا) میں چلے جاتے ۔ وہاں آپ روزہ رکھتے۔ تنہائی کی زندگی گزارتے اور عبادت اور غور و فکر میں مشغول رہتے۔ اس طرح " تحنث " ، کی ایک طویل زندگی کے بعد وہ وقت آیا جب فرشتہ نمودار ہوا اور اس نے خدا کا کلام آپ تک پہنچایا۔ روزہ کے لئے شریعت میں صوم کا لفظ ہے۔ صام يصوم کے اصل معنی ہیں رکنا۔ چلنے پھرنے ، بولنے ، کھانے پینے سے رک جانا۔ الخیل الصائم اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس کا چارہ پانی بند کر کے کھڑا کر دیا گیا ہو۔ اسی لئے ماہ رمضان کو حدیث میں صبر کا مہینہ (شهر الصبر) کہا گیا ہے۔ حارث بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک روزہ کی خبر دی تو کہا۔ عزفت عن الدنيا اظمأت نهارى دمیں دنیا سے علیحدہ ہو گیا اور دن بھر پیاسا رہا) روزہ اپنی ظاہری علامت کے اعتبار سے صبح سے شام تک کھانا پینا بند کرنے کا نام ہے۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ لے۔ ہر اس چیز میں کمی کرے جو مادی اعتبار سے موجودہ دنیا میں انسان کو درکار ہوتی ہیں۔ بولنا، ملنا جلنا، سونا، تقاضائے بشری پورا کرنا، غرض ہر چیز میں اپنے معمولات کو کم کر دے حتیٰ کہ رمضان کے آخری دنوں میں اعتکاف کرکے ان چیزوں سے بالکل ہی کٹ جائے۔ اعتکاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader