Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کی شکل میں بندہ اشتغال بالخلق سے علیحدگی اختیار کرلے تاکہ اس کو اشتغال بالحق کے مواقع حاصل ہوں۔ یہ چیز مومن سے پوری زندگی میں مطلوب ہے۔ حدیث میں اس کو زہد (دنیا سے بے رغبتی) کہا گیا ہے۔ پھر ماہ رمضان میں بشکل صوم اس کو فرض کیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخری دنوں میں اعتکاف (گوشہ نشینی) کی صورت میں اس کو ایک انتہائی مطلوب عبادت قرار دیا گیا ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف، اس انقطاع الی اللہ کی کل شکل ہے جو مہینہ کے بقیہ حصوں میں بہنائے رخصت جزوی طور پر تلقین کی گئی ہے۔ اس روزہ داری سے کیا فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ ایک لفظ میں یہ کہ انسان کا مادی پہلو کمزور ہو، اس کی روحانیت بڑھے تاکہ عالم قدس سے اس کا اتصال ممکن ہو سکے۔ جسم کی مادی غذا کے مقابلہ میں روزہ کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے۔ انسان بیک وقت دو چیزوں کا مجموعہ ہے ایک مادیت، دوسرے روح، جس کو موجودہ زمانہ کے علمائے نفسیات ذہن (Mind) سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسانی وجود کا مادی حصہ اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر وہ موجودہ دنیا میں اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس کی روح، یا جدید نفسیاتی اصطلاح میں ذہن، اپنی مجرد حیثیت کو زیادہ سے زیادہ باقی رکھ سکے اور اپنی غیر مادی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے تاکہ غیر مادی حقائق تک اس کی بے آمیز رسائی ممکن ہو۔ آدمی جب اپنے آپ کو مادی دنیا سے اٹھاتا ہے اور روحانی دنیا سے مربوط ہوتا ہے تو حیرت انگیز طور پر وہ محسوس کرتا ہے کہ علم حقیقت کا ایک نیا دروازہ اس کے سامنے کھل گیا ہے۔ وہ سارے واقعات جو مادی غلاف میں پٹا ہونے کی وجہ سے اس کو دکھائی نہیں دیتے تھے، اب اسے نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اس بلند منزل پر پہنچ جاتا ہے جو انسان کی آخری معراج ہے: ما زهد عبد فی الدنیا انبت اللہ الحکمة جب کوئی بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو اللہ فی قلبہ وانطق بھا لسانہ وبصرہ عیب الدنیا اس کے دل میں حکمت پیدا کر دیتا ہے اس کی زبان حکمت وداءھا و دواءھا وادخلہ سالما الی بولنے لگتی ہے اور اس کو دنیا کا عیب اور اس کا علاج دار السلام (مشکوٰۃ) دکھا دیتا ہے اور اس کو سلامتی کے گھر میں داخل کر دیتا ہے۔ اسی راہ سلوک کا ایک مقام وہ ہے جب آدمی مادی غلاف سے اتنا زیادہ گزر جاتا ہے کہ عالم حقائق اس کو بالکل بے نقاب شکل میں دکھائی دینے لگتا ہے: تعبد اللہ کانک تراہ (بخاری) خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ نبوت اسی ترقی کا آخری درجہ ہے۔ عام انسان کو بھی، اپنی روح کو ترقی دینے کے بعد، یہ مقام حاصل ہوتا ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ پیغمبر ہوں کہ خود خدا کا ایک مصطفیٰ (چنا ہوا) شخص ہوتا ہے، اس پر عالم قدس تعینات کے تمام پردوں کو ہٹا کر اپنی قطعی شکل میں بے نقاب ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ خود پیغمبر کے شعور کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ پیغمبری کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے کہ "میں جانتا ہوں کہ میں جانتا ہوں"۔ جب کہ عام انسان اپنے عدم اصطفاء کی بنا پر، کبھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page