ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔ عالم قدس سے اس کا اتصال نہ قطعی ہوتا ہے، اور نہ پیغمبر کی طرح شعوری۔ روزہ کی یہی حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں حکم روزہ کے درمیان یہ آیت آئی ہے: واذا سالك عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوة اور جب میرے بندے تجھ سے میری بابت پوچھیں تو میں قریب الداع اذا دعان (بقرہ۔۱۸۶) ہوں، اور پکارنے والے کی پکار کو پہنچتا ہوں۔ پیغمبر مقام اصطفار پر ہونے کی وجہ سے براہ راست فرشتہ کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوتا ہے۔ دوسرے انسانوں کے لئے قرآن، جبریل کا بدل ہے۔ پیغمبروں نے روزہ داری کرکے جب اپنی روح یا موجودہ نفسدیاتی اصطلاح میں ذہن کو مادیات کی آلائش سے پاک کرکے مجرد کیا تو خدا کا فرشتہ ان کے اوپر اتر پڑا اور اس نے خدا کے کلام کو براہ راست انھیں سنایا۔ دوسرے انسان، جو بوسطہ قرآن خدا کو پاتے ہیں، ان کے لئے بھی قرآن کو پانے کے لئے ایک روزہ دارانہ زندگی ضروری ہے۔ قرآن اگرچہ وحی متلو کی شکل میں مابین الدفتین آج ہمارے پاس موجود ہے مگر کسی قلب خاص پر وہ اسی وقت "اترتا" ہے جب کہ روزے اور تبتیل کی زندگی گزار کر اس نے اپنے کو روحانی اعتبار سے اس قابل بنا لیا ہو کہ وہ قرآن کا مہبط بن سکے۔ نزول قرآن کے مہینے میں روزہ فرض کرنا (بقرہ۔ ۱۸۵) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ اس لئے ہے کہ وہ آدمی کو قرآن کا حامل بنائے۔ جس طرح پیغمبر کو حامل قرآن بننے کے لئے حرا کی تنہائیوں میں روزہ دار بننا پڑا تھا اسی طرح دوسرے مومنین قرآن کو بھی بننا پڑے گا، ورنہ وہ چوپایوں کی طرح قرآن کی جلدیں اپنے اوپر لادے رہیں گے (جمعہ۔ ۱۵) قرآن ان کے قلب پر اترا ہوا نہیں ہوگا۔ قرآن کائنات کا قانون اور کتاب فطرت کی آواز ہے۔ اگر کوئی پوری طرح اس کی گہرائیوں میں غرق ہو تو وہ اپنے دل کے اوراق میں قرآن کو پڑھنے لگتا ہے اور کائنات کے ہر ذرہ پر اسے قرآن کی خاموش آواز سنائی دینے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت وہ آتا ہے جب قرآن اور فطرت دونوں ایک دوسرے کا متبنیٰ بن جاتے ہیں: بل هو آیات بينات في صدور الذين اوتوا بلکہ یہ قرآن آیتیں ہیں روشن، ان کے سینوں میں العلم (عنکبوت - ۴۹) جن کو علم دیا گیا ہے۔ نزول قرآن کے مہینے میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے : يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر (بقره) اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے تم پر مشکل نہیں چاہتا۔ انسان کی سب سے پہلی اور سب سے ضروری حاجت کھانا اور پانی ہے اس لئے یہ ممکن نہیں کہ کھانا اور پانی بند کرنا عُسر (تنگی) کا باعث نہ ہو۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ حکم ہر حال مادی انسان کے لئے عُسر کا باعث ہے۔ حتیٰ کہ خود یہ ارشاد الٰہی کہ "خدا آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے وہ تم کو تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا"، بالواسطہ طور پر اس بات کا اظہار ہے کہ انسان کی مادی حاجت کے اعتبار سے روزہ ہر حال عسر کا باعث ہے۔ پھر کیوں اس کو یسر کہا گیا۔ یُسر کے معنی عربی زبان میں آسانی کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کام کے لئے آدمی کو اس طرح تیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader