ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا جائے کہ اس کا کرنا اس کے لئے آسان ہوجائے، مثلاً جنگ کے لئے تیار ہو جانے کو کہتے ہیں نیتہ للقتال ۔ قرآن کی مندرجہ بالا آیت کا مطلب یہ ہے کہ روزہ بظاہر ہم کو تنگی کا ایک کام معلوم ہوگا۔ مگر خدا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں کہ وہ خواہ مخواه تم کو تنگی میں ڈال دے ۔ اصل یہ ہے کہ جس حکمت کے ساتھ تمھاری تخلیق کی گئی ہے ، اس کے تحت ضروری تھا کہ تم کو مادی احتیاجات کے ساتھ پیدا کیا جائے ۔ مگر کلام الہی کو حقیقی نفسیات کی سطح پر پانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کم از کم کچھ مقررہ دنوں کے لئے تم اپنے آپ کو ممکن حد تک مادیات سے الگ کرو اور اپنی روحانی حیثیت کو ترقی دے کر اس قابل بناؤ کہ وہ تمام مادی حجابات سے باہر آکر کلام اللہ کو اخذ کرنے کے قابل ہوسکے۔ روزہ اور قرآن کے درمیان یہی نسبت ہے جس کی بنا پر نزول قرآن کے مہینہ کو روزہ دار زندگی کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ روزہ کے مہینہ میں نہ صرف یہ کہ ”گرمی افطار" روزہ کے مقاصد کے لئے قاتل ہے ، بلکہ یہ چیز بھی اس کے حقیقی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں رکھتی کہ آدمی بس بھوکا پڑا رہے اور ہر روز ایک قرآن ”ختم کرنے کا کر تب دکھائے ۔ اس قسم کا کوئی عمل ایک خالص اسلامی عبادت کو عیسائیوں کی رہبانیت کے مقام پر پہنچا دینے والا ہے۔ اسی طرح روزہ کے مہینے میں ضربیں لگانا، جس کو غلط طور پر ذکر بالجہر کہا جاتا ہے، اس روحانی تخلیہ کا نقیض ہے جو روزہ کا اصل مقصد ہے۔ روزہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی ضروری طعام اور بالکل ناگزیر قسم کی ذمہ داریوں کے علاوہ ہر چیز سے اپنے آپ کو فارغ کرلے۔ بولنا، ملنا جلنا، آمد و رفت، شور و غفل اور ہر قسم کے دنیوی مشاغل سے کٹ کر ایک مدت تک اس طرح خاموش زندگی گزارے کہ اس کا وقت عبادت اور یاد الہی اور قرآن کو تدبر کے ساتھ پڑھنے میں صرف ہو۔ ترک طعام حقیقتاً ایک علامت ہے اس بات کی کہ محرمات تو درکنار، جن سے ہر حال مومن کو تا قیامت روزہ دار بن کر زندگی گزارنا ہے، مخصوص دنوں میں وہ محللات تک سے روزہ رکھ لے اور ہر چیز سے ممکن حد تک کٹ کر خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔ روزہ اپنی مخصوص اور متعین شکل میں اگر چہ سال میں ایک بار ہی مطلوب ہے۔ مگر وہ اصل روح جو روزہ کے ذریعہ پیدا کی جاتی ہے، وہ مومن کا دائمی مطلوب ہے۔ وہ ہے انقطاع الی اللہ، جسمانی اعتبار سے نہیں، بلکہ حسی اعتبار سے۔ اعلیٰ ایمانی حالت یہ ہے کہ بندہ، خواہ بظاہر وہ کسی بھی کام میں مشغول ہو، قلب اور روح کے اعتبار سے وہ مسلسل اپنے رب کی طرف متوجہ رہے، وہ دائمی طور پر اپنے آپ کو ایک قسم کے روحانی اعتکاف میں رکھے ۔ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے کھوہوں اور جنگلوں میں بسیرا لینے کو کمال ایمان سمجھا۔ حالاں کہ کمال ایمان یہ ہے کہ آدمی دنیا کے ہنگاموں میں اپنے فرائض ادا کر رہا ہو مگر اس کا ذہن یاد الہی میں مرتکب رہے : عن ابن مسعود رضی الله عنہ قال: ائتم اکثر صیاما ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا، واكثر صلوة واكثر اجتهادا من اصحاب رسول الله تم اصحاب رسول سے زیادہ روزہ رکھتے ہو، ان سے زیادہ صلى الله عليه وسلم دم كانوا خيرا منكم، قالوا الم نمازیں پڑھتے ہو، ان سے زیادہ مجاہدہ کرتے ہو، مگر وہ يا أبا عبد الرحمن ؟ قال : هم كانوا ازهد في الدنيا تم سے بہتر تھے۔ پوچھا گیا، کیوں اے ابو عبدالرحمٰن، جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader