ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا: وہ دنیا سے انتہائی بے رغبت تھے اور آخرت کے بہت زیادہ حریص تھے۔ حلیۃ الاولیاء، ج ۱ ص ۱۴۶ نماز نماز کی اصل حقیقت ذکر (طہ - ۱۴) ہے۔ ذکر کے معنی ہیں یاد ــــ کہتے ہیں ذکر دُرتہٗ فتنٗ کرُر میں نے اسے یاد دلایا پس اسے یاد آگیا) اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اسے یاد رکھیں ۔ خدا کی عظمت، اس کی حکمتیں، اس کی خالقیت و مالکیت بار بار انہیں یاد آتی رہے۔ اسی کیفیت کو پیدا کرنے کے لئے نماز فرض کی گئی ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی تمام موجودات بلا وقفہ اپنے خالق کی تسبیح میں مشغول ہیں (انبیاء - ۲۰) مقام خلافت پر آدم کا تقرر ہوا، اور فرشتوں کو حکم ملا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل تیری تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں (بقرہ - ۳۰) اس سے اندازہ ہوا کہ فرشتوں کے نزدیک خلافت کے استحقاق کے لئے یہ ضرور کا تھا کہ خلیفہ دائمی طور پر تسبیح خداوندی میں مشغول رہے۔ بخاری کی روایت کے مطابق معراج کے موقع پر آپ کو جن نمازوں کا حکم ہوا وہ تعداد میں پچاس تھیں ظاہر ہے کہ ۲۴ گھنٹے کے شب و روز میں پچاس نمازوں کی ادائیگی کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً سارا وقت اسی میں صرف ہو جائے۔ پھر اس میں تخفیف کر کے پانچ نمازوں کا حکم ہوا۔ گویا اصل مطلوب پچاس وقت کی نماز ہے، مگر اس کو کم کر کے پانچ کر دیا گیا ہے۔ نماز بندے کی طرف سے خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ اس خدائی کے اتنے بے شمار پہلو ہیں اور اتنی ان گنت شکلوں میں انسان کے اوپر اس کا ظہور ہوا ہے کہ انسان دائمی طور پر حالت ذکر میں ہو کر بھی ان کا حق ادا نہیں کر سکتا (ما عبد ناک حق عبادتک) کجا کہ وہ صرف جزوی طور پر اس میں مصروف ہو۔ حقیقت یہ کہ اصلا جو چیز مطلوب ہے، وہ یہی ہے کہ بندہ ہمہ وقتی طور پر خدا کے آگے نمازی بنا رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص اور مختلف مصالح کے پیش نظر حکم کی یہ صورت کر دی کہ پانچ وقت متعین نماز ادا کرو اور بقیہ اوقات میں غیر متعین نماز میں مشغول ہو۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو مقررہ اوقات پر فرض کی گئی ہے (نساء - ۱۰۳) مگر اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نماز کا مقصد ذکر ہے (اقم الصلوٰۃ لذکری، طہ - ۱۴) حتیٰ کہ ذکر کو نماز کا اعلیٰ مرتبہ بتایا گیا ہے (ولذكر الله اكبر، عنکبوت - ۴۵) اس حقیقت کو سامنے رکھ کر وہ آیتیں پڑھے جن میں زندگی کے مختلف احوال میں خدا کو یاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز مخصوص ہیئت کے اعتبار سے اگرچہ پانچ وقت ہی فرض ہے، مگر اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے ہر وقت مطلوب ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی ہر لحاظ سے دنیوی کاروبار میں مشغول ہو: رجال لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله ایسے لوگ جن کو خرید و فروخت خدا کی یاد سے غفلت (نور - ۳۷) میں نہیں ڈالتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader