Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز کے اسی وسیعی مفہوم کے اعتبار سے قرآن میں ایک جگہ اہل جنت کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ دائمی طور پر نماز میں مشغول رہتے ہیں : الا المصلین الذین هم علی صلاتهم دائمون (معارج ۔ ۲۳) مگر نماز پڑھنے والے جو اپنی نماز کے اوپر ہمیشہ رہنے والے ہیں یہ دائمی نماز یا ذکر کسی رٹے ہوئے لفظ کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ حقیقی ذکر وہ ہے جو آدمی کی اپنی زبان میں بولنے لگے نہ یہ کہ کچھ مقرر الفاظ کی تکرار ہو۔ آدمی جب اعلیٰ حقائق کا ادراک کرتا ہے تو اس کی پوری ہستی ایک مخصوص ربانی کیفیت میں ڈوب جاتی ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے اپنے رب کے لئے جو کلمات ٹپکتے ہیں انھیں کو ذکر کہا جاتا ہے ۔ حدیث کے الفاظ میں اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے گویا آدمی جنت کے باغوں میں چر رہا ہے (من احب ان يرتع في رياض الجنة فليكثر ذكر الله ، اخرجه الطبراني عن معاذ بن جبل) قرآن نے نماز کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک صلوٰۃ خشوع (مومنون۔ ۲) دوسری صلوٰۃ سہو (ماعون۔ ۵) پہلی قسم کی نماز کے لئے جنت کی خوش خبری ہے۔ جب کہ دوسری قسم کی نماز کے بارے میں ارشاد ہوا ہے ’’ خرابی ہے ایسے نمازیوں کے لئے ‘‘، حدیث میں آیا ہے کہ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک شخص آیا، اس نے نماز پڑھی اور اس کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : ارجع فصل فانك لم تصل جاوَ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ دوسری طرف ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا : اقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت (رواه مسلم عن ابي هريره) ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہوتا ہے۔ دو نمازوں کا یہ فرق ان کی ظاہری ہیئت یا خارجی مراسم کی ادائیگی کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اس کیفیت کے اعتبار سے ہے جس کے تحت کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے۔ صلاۃ سہو وہ نماز ہے جو بے شعوری کے ساتھ پڑھی جائے۔ آدمی کسی نہ کسی طرح ارکان نماز کو ادا کرلے مگر کیفیات نماز کا کوئی حصہ اسے نہ ملے۔ حضرت انس بتاتے ہیں کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ’’ یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے۔ جب سورج زرد ہوجاتا ہے اور شیطان کی دو سینگوں کے بیچ میں پہنچ جاتا ہے تو کھڑا ہو کر جس طرح مرغی چونچ مارے جلدی جلدی چار رکعت پڑھ لیتا ہے جس میں خدا کی یاد کم ہی ہوتی ہے ‘‘ (نسائی) صلوٰۃ خشوع وہ نماز ہے جس میں جھکاؤ ہو اور جو کیفیات سے بھری ہوئی ہو۔ عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت اس طرح ادا کرے کہ اس کا دل اندر چہرہ دونوں نماز کی طرف متوجہ ہوں، اس پر جنت واجب ہوگئی‘‘ (مسلم) اسی طرح حضرت عثمان بن عفان کی ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا : من توضأ وضوئي ثم يصلى ركعتين لا يحدث فيهما جو میری طرح وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز اس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page