ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
بشی غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (متفق علیہ) پڑھ لے کہ اس میں اپنے دل کے اندر کوئی خیال نہ لائے تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ جب آدمی کسی خاص دل چسپی کے کام میں مشغول ہو تو وہ اس کی طرف اس طرح کھینچ اٹھتا ہے کہ اس کو گردو پیش کا کچھ خیال نہیں رہتا۔ یہی چیز نماز میں مطلوب ہے۔ آغاز نماز کے وقت ہاتھ اٹھانا اس بات کی علامت ہے کہ اب نمازی اپنے ماحول کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں جا رہا ہے۔ وہ اپنے رب کی تسبیح اور اس سے دعاء و مناجات میں پوری طرح گم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بندگی اور خدائی کی باہمی ملاقات کے تمام مراحل ختم ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی نماز پوری کرنے کے بعد دائیں بائیں رخ کرکے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے تو اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے گویا وہ اپنے آپ کو کسی اور دنیا سے نکال کر دوبارہ اپنے سابقی ماحول میں واپس لا رہا ہے اور حاضرین کو سلام عرض کر رہا ہے۔ فقہ نے نماز کے مختلف اجزا ر کئے ہیں اور ان کو فرض و واجب ، مندوب و مستحب ، سنت و نفل، مؤکدہ در غیر مؤکدہ کے خانوں میں تقسیم کیا ہے۔ مگر حقیقت کی دنیا میں نماز کی ایسی کوئی تقسیم نہیں۔ اگر کوئی شخص ان تقسیمات کے مطابق خالص فقہی ناپ تول کی نماز ادا کرتا ہے تو وہ کمپیوٹر کی نماز پڑھ رہا ہے، انسان کی نماز نہیں۔ ایک کمپیوٹر قانونی نماز کی مکمل نقل کر سکتا ہے۔ مگر انسان کی نماز جذبات و کیفیات کے ایک ایسے مجموعہ کا نام ہے جس کو کسی بھی طرح قانونی خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ قانون کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ نماز کی ظاہری ہیہیات کا اہتمام ، جس کو قرآن میں محافظت صلوٰۃ (معارج - ۳۴) کہا گیا ہے ، نماز کی ابتدائی شرط ہے۔ انھیں چیزوں کے جلو میں آدمی نماز کی دنیا میں داخل ہوتا ہے ، اس کے آگے جو کچھ مطلوب ہے اس کو در درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ نماز میں جھکنا آدمی کی عملی زندگی میں خدا کے آگے اس کے جھکاؤ کی علامت بن جائے۔ اسی لئے کہا گیا ہے: ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر (عنکبوت - ۴۵) نماز بد کاریوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔ قرآن میں ایک نبی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے جب اپنی قوم کو خدا کی عبادت کی طرف بلایا تو انھیں نظر آیا کہ خدا کی عبادت کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی عملی زندگی اور اپنے معاشی معاملات میں خدا کے احکام کی پابندی کی جائے : یا شعیب الصلوٰۃ تأمرك ان نترك ما يعبد بولے اے شعیب ، کیا تمھاری نماز تم سے کہتی ہے کہ ہم ان آباؤنا او ان نفعّل فی اموالنا نشاء، (ھود - ۸۷) چیزوں کی عبادت کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا چھوڑ دیں۔ نماز میں بار بار جھکنا گویا خدا سے یہ کہنا ہے کہ میرے آقا مجھے حکم دے ، میں تیرے حکم کی تعمیل کروں گا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ جس نماز کے ساتھ اتباع شہوات پایا جائے وہ ایسی نماز ہے جس سے روح صلوٰۃ ضائع ہو چکی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader