Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ (الم - ۵۹) نماز کا دوسرا اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ خدا کی یاد اس کی نفسیات کا جزو بن کر اس کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے : واسجد واقترب (علق) سجدہ کرو اور قریب ہو جا۔ قرآن میں " مقام یقین " سے بعض لوگوں نے نماز کا یہی اعلیٰ مقام مراد لیا ہے : واعبد ربك حتى ياتيك اليقين حجر ـــ آخر اپنے رب کی عبادت کر یہاں تک کہ آۓ تم کو یقین ۔ "حتیٰ" کا مطلب یہ نہیں کہ مقام یقین پر پہنچنے کے بعد نماز ختم ہو جائے گی۔ اس کے بعد تو اعلیٰ ترین نماز شروع ہوتی ہے۔ پھر وہ ختم کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل کیفیت نماز کی انتہا کا بیان ہے نہ کہ صورتِ نماز کی انتہا کا۔ یہ اقتراب یا مقام یقین کیا ہے ، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جب آدمی اس عالم میں پہنچتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے، گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے، ایک بعید ترین چیز سے انتہائی طور پر قریب ہے کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے۔ ایک سب سے زیادہ پُرهیبت چیز کے لئے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پارہا ہے۔ ایک چیز جس کو کسی بھی واسطہ کے ذریعے محسوس نہیں کیا جا سکتا ، کسی واسطہ کے بغیر وہ اس تک پہنچ گیا ہے۔ سجدہ جو نماز کی انتہائی حالت ہے وہی خدا سے قریب ہونے کی بھی انتہائی حالت ہے۔ "وحدتِ وجود" کا تصور غالباً اپنی ابتدائی شکل میں محض اس کیفیت کو بتانے کے لئے تھا جو یاد الہیٰ میں غرق ہونے کے وقت آدمی کے اوپر طاری ہوتی ہے مگر بعد کو منطقی تعین کی کوشش نے اس کو ہمہ اوست کے ناقابل فہم فلسفے تک پہنچا دیا۔ اگر اس بد نام عقیدے کے متعلق میری تشریح کو صحیح مانا جائے اور اس کو محض حیاتی ارتباط کے مفہوم میں لیا جائے تو میں کہوں گا کہ سجدہ قربت کے وقت آدمی کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے ، اس کے اظہار کے لئے شاید انسانی زبان میں یہ قریب ترین تعبیر ہے۔ جب سپردگی کا لمحہ آتا ہے، جب عجز اور محدودیت کا پیکر اپنے آپ کو لا محدود و کمال کے حوالے کر دیتا ہے، جب پیشانی اس طرح کھنچ اٹھتی ہے گویا وہ زمین سے چپک گئی ہے، اس وقت فی الواقع ایسا محسوس ہوتا ہے گویا قطرے نے اپنے آپ کو سمندر میں ڈال دیا ہے ، گویا انسان خدا سے جا ملا ہے۔ حقیقی نماز جو دائمی ذکر کی شکل میں مطلوب ہے ، اس سے کیا مراد ہے ، اس کی کوئی فہرست نہیں بنائی جا سکتی ۔ یہ ایک دو طرفہ عمل ہے جس کا ایک سرا بندے کی طرف ہوتا ہے اور دوسرا خدا کی طرف۔ بندہ جب اپنے رب کو اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے یاد کرتا ہے (آل عمران ــ ۱۹) تو خدا کی توجہ اسے حاصل ہوتی ہے اور ذکر کی کیفیات اور ذکر کے کلمات اس کو مخصوص طور پر خدا کی طرف سے القا کئے جاتے ہیں۔ وہ نفسیاتی سطح پر ہر آن ایک نیا رزق خدا کی طرف سے پا رہا ہے (آل عمران ـــ ۳) ظاہر ہے کہ اس قسم کے واردات کی کوئی فہرست بندی ممکن نہیں۔ تاہم قرآن میں اس کی بعض علامتیں بتائی گئی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page