Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۔ اس کے تصور میں خدا اس طرح سما جائے کہ ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے : الذین یذکرون الله قیاماً وقعوداً وعلی جنوبهم وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے ویتفکرون فی خلق السماوات والارض ربنا ما اور آسمان و زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں ، کہہ اٹھتے ہیں، خلقت هذا باطلا (آل عمران۔ ۱۹۱) خدا یا تو نے اس کو عبث نہیں بنایا۔ ۲۔ خدا کی عظمت اس کے اوپر اتنی چھا جائے کہ اس کے خیال سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں : تقشعر منه جلود الذین یخشون ربہم رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اس سے کھال پر ان لوگوں (زمر۔ ۲۳) کے کہ ڈرتے ہیں اپنے رب سے۔ ۳۔ خدا کا تذکرہ ہو تو اس کا دل دہل اٹھے : الذین اذا ذکر الله وجلت قلوبہم (انفال۔ ۲) وہ لوگ کہ جب ذکر آتا ہے اللہ کا تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ ۴۔ خدا کا کلام اس کو رلا دے : تری اعینہم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھیں ابلیتی ہیں آنسوؤں سے اس سبب (مائدہ۔ ۸۳) سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ ۵۔ نماز اس کے لئے ایسی چیز بن جائے جس سے وہ ضرورت کے وقت مدد طلب کرے : یا ایها الذین آمنوا استعینوا بالصبر والصلوة اے ایمان لانے والو صبر اور نماز سے مدد لو۔ (بقره۔ ۴۵) حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشانی پیش آتی تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے (إذا حزبه امر فصلی یہی صلحائے امت کا ہمیشہ معمول رہا ہے۔ ابن تیمیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تو وہ کسی ویران مسجد میں چلے جاتے، نماز پڑھتے اور سجدہ میں سر رکھ کر کہتے : یا معلم ابراهیم علمنی (اے ابراہیم کو سکھانے والے مجھے بتا دے) ابو نعیم نے حضرت ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا : مادمت فی صلوة فانت تقرع باب الملک ومن جب تک تم نماز میں ہو، تم بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹا يقرع باب الملك يفتح له رہے ہو اور جو بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹائے اس کے لئے وہ کھول دیا جاتا ہے۔ نماز مومن کے لئے ، زندگی کے صحرا میں ایک نخلستان ہے۔ یہ نماز جب آدمی کو حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اس کی محبوب ترین چیز بن جاتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جعلت قرة عینی فی الصلوة، نسائی (میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے) اپنے مؤذن بلال سے آپ نے اذان کے لئے فرمایا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : یا بلال اقم الصلوة ارحنا (ابو داؤد، كتاب الاديب) اے بلال! نماز کی تیاری کرو اور ہم کو راحت دو۔ یہ نماز اس طرح حاصل نہیں ہو سکتی کہ آدمی روزانہ نماز میں ایک قرآن اور دو قرآن ختم کرنے لگے۔ اسی قسم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page