ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
کا عمل ایک کرتب ہو سکتا ہے۔ مگر وہ نماز نہیں ہے۔ نماز کی تلاوت تفکر و تدبر کے ساتھ ہوتی ہے۔ شرعی اعمال کا دار و مدار کیفیت پر ہے، کمیت پر نہیں۔ قرآن کی قرات جس شخص کے لیے محض رٹے ہوئے الفاظ کا دہرانا نہ ہو، بلکہ وہ اس کے قلب سے یاد الہی کا ابال بن کر نکلے، اس کے لئے ایک دن میں ایک قرآن یا کئی قرآن کا ختم کرنا ممکن نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ایک سورہ میں ساری رات گزار دیتے تھے۔ امام احمد نے حضرت عائشہ رض سے نقل کیا ہے کہ ان سے تذکرہ کیا گیا کہ کچھ لوگ ہیں جو ایک رات میں سارا قرآن ایک بار یا دو بار پڑھ لیتے ہیں۔ انھوں نے یہ سن کر کہا : اولئك قروا ولم يقروُا انھوں نے پڑھا مگر نہیں پڑھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پوری رات قیام کرتی تھی۔ آپ پس سورہ بقرہ اور آل عمران اور نساء پڑھتے، جب بھی آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں ڈراوا ہوتا تو آپ دعا کرتے اور پناہ مانگتے، جب بھی کسی آیت سے گزرتے جس میں بشارت ہوتی تو آپ اس کے لئے دعا کرتے اور اس میں رغبت ظاہر فرماتے ۔ زکوٰة زکوٰۃ یا انفاق کی اصل ایثار ہے (حشر - ۹) اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر دوسرے کا حق سمجھے۔ ایسا معاشرہ بنے جس میں لوگ "لینے" کے بجائے " دینے " کے لئے تیار رہتے ہوں۔ دوسرے کا استحصال کرنے کے بجائے دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے مواقع تلاش کریں۔ ہر ایک کے اندر یہ مزاج پرورش پائے کہ دنیا میں اس کا کوئی حق نہیں ۔ یہاں اس کی صرف ذمہ داریاں ہیں۔ اسی اجتماعی روح کو پیدا کرنے کے لئے زکوٰۃ فرض کی گئی ہے ، دینی نظام میں اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بشیر بن خصا صیہ بیعت ہونے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انھوں نے پوچھا ، اے خدا کے رسول ! آپ مجھ سے کن چیزوں پر بیعت لیں گے ۔ آپ نے بتایا تو انھوں نے کہا کہ صدقہ اور جہاد، دو چیزیں میرے لئے مشکل ہیں ، ان سے مجھے مستثنیٰ کر دیجیے۔ آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : يا بشير الصدقة ولا جهاد فهم اذن تدخل الجنة (احمد) اے بشیر ! صدقہ نہ جہاد ، تو جنت میں کیسے جاؤ گے ۔ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو فتنہ ارتداد اٹھا ، اس کا پس منظر بھی یہی تھا۔ قدیم عرب میں لوگوں کے اقتصادی ذرائع بہت محدود ہوتے تھے ، اس لئے بہت سے قبائل یہ چاہتے تھے کہ ان کے اسلامی فرائض کی فہرست سے زکوٰۃ کو مستثنیٰ کر دیا جائے۔ پیغمبر کی وفات کے بعد ان نو مسلم قبائل نے سوچا کہ اب ہمیں حکومت اسلامی کی مالی اطاعت کی ضرورت نہیں : قالوا : قد مات هذا الرجل الذى كانت العرب انھوں نے کہا، وہ شخص اس دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ تنصر به كنز العمال ، ج ۳ ، ص ۱۴۲ سے مسلمانوں کو خدائی مدد حاصل ہوتی تھی ۔ اگرچہ ان قبائل نے صرف زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کیا تھا ، وہ بدستور اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔ حتیٰ کہ نماز و روزہ کے بھی پابند تھے ۔ مگر خلیفہ اول نے فرمایا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader