Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

واللہ لا قاتلن من فرق بین الصلوٰة والزکوٰة خدا کی قسم میں اس سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰة کے فان الزکوٰة حق المال (بخاری، مسلم، احمد) درمیان فرق کرے کیونکہ زکوٰة مال میں خدا کا حق ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے ، سب اللہ کی میراث ہے (حدید - ۷) ، سارا رزق ، رزق اللہ ہے (ملک - ۱۵) سارا مال ، اللہ تعالیٰ کا مال ہے (نور - ۳۳) جو کچھ کسی کو ملا ہوا ہے وہ عارضی رب ہے (اسراء ۶۱ - ۲۰) ایسی حالت میں اگر خدا اساری مال و متاع کو اپنا حصہ قرار دیتا تو اسے ایسا کرنے کا حق تھا۔ مگر اس نے صرف ایک جزو کو اپنا حصہ قرار دے کر بقیہ کو ہمارے حوالے کر دیا ہے : و آتوا حقه يوم حصاده (انعام - ۱۴۱) اور خدا کا حق دو کاٹنے کے دن - قانونی طور پر زکوٰة ، ہجرت کے پانچویں سال فرض ہوئی ہے۔ مگر غیر معین شکل میں وہ اول روز سے مطلوب تھی۔ چنانچہ کی سورتوں میں زکوٰة کا ذکر موجود ہے۔ سورہ مومنون میں ارشاد ہوا ہے ، والذین هم للزکوٰة فاعلون۔ اسی طرح سورہ حم سجدہ میں مشرکین کے بارے میں ہے ، الذین لا یؤتون الزکوٰة - بعثت نبوی کے پانچویں سال جب مکہ کے مسلمانوں کی ایک جماعت حبش کو ہجرت کر گئی تو وہاں کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں جعفر بن ابی طالب نے پیغمبر اسلام کا تعارف کراتے ہوئے جو کچھ کہا تھا، اس میں یہ جملہ بھی تھا : و امرنا أن نعيد الله واقام الصلوٰة وايتاء الزکوٰة انھوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خدا کی عبادت کریں نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں ابتداً یہ ایک عمومی حکم تھا۔ اس کے بعد مدت ، مقدار اور دروں کا تعین کر دیا گیا اور ٹیکس کی طرح اس کو ریاست کے لئے قابل وصولی قرار دے دیا گیا۔ اب قانونی اعتبار سے تو زکوٰة کا لازمی مفہوم ایک ہی ہے۔ مگر نہ زکوٰة چون کہ عام معنوں میں صرف ’’ٹیکس‘‘ نہیں بلکہ وہ ایک عبادت بھی ہے ، اس لئے اس کا ایک تو سیعی مفہوم بھی ہے اور اس اعتبار سے اس کی کوئی حد نہیں۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلہ پر ہے کہ خدا کو خوش کرنے کے لئے اپنے مال کی کتنی مزید مقدار وہ خرچ کرتا ہے۔ فاطمہ بنت قیس بتاتی ہیں کہ اس سلسلہ میں آنحضرت سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ان فی المال حقا سوی الزکوٰة (ترمذی) یقیناً آدمی کے مال میں زکوٰة کے علاوہ بھی حق ہے۔ قرآن میں ہے کہ ذاتی ضروریات سے جو فاضل ہو، اسے خرچ کرو : يسئلونك ما ذا ينفقون قل العفو (بقرہ - ۲۱۹) پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ، کہہ دو جو حاجت سے زیادہ ہو زکوٰة یا انفاق کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صدقہ ، دوسرے وہ جس کو قرض حسن کہا گیا ہے : ان المصدقین والمصدقات واقرضوالله قرضاً بلاشبہ صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں اور وہ حسناً يضاعف لهم وليم أجر كريم (حدید - ۱۸) لوگ جو اللہ کو قرض حسن دیں تو ان کا دیا ہوا ان کے لئے بڑھایا جائے گا اور ان کے لئے پسندیدہ اجر ہے۔ ۷۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لئے مصدقین اور مصدقات کے الفاظ ہیں۔ مگر دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر کر رہا ہو تو اسلوب بدل کر اقرضواللہ قرضاً حسناً فرمایا۔ یہ قرآن کا خاص انداز ہے۔ جب کسی چیز کی اہمیت بتانا ہو تو اسلوب کلام بدل دیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page