Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

صدقہ سے مراد اطعام مسکین (مدثر۔ ۴۷) ہے یعنی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خرچ کرنا۔ اس کے برعکس قرض حسن سے مراد وہ انفاق ہے جو سبیل اللہ (تقویت دین) کے لئے دیا جاتا ہے۔ دین کو پھیلانا اور اس کو سربلند کرنا اللہ تعالیٰ کو انتہائی طور پر مطلوب ہے اس مقصد کی خاطر جان و مال کو خرچ کرنے کا بہت ثواب بتایا گیا ہے۔ چوں کہ اس انفاق کا اصل مقصد کسی انسان کی مادی ضرورت پوری کرنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ خدا کے دین کے لئے دیا جاتا ہے اس لئے خدا نے اس کو اپنے ذمہ ”قرض“ قرار دیا ہے۔ ”صدقہ“ کی مقدار بہ شکل زکواۃ متعین کر دی گئی ہے۔ مگر قرض حسن کی کوئی مقدار نہیں۔ یہ خادم دین یا دعاة اور شہداء کی فہرست میں اپنا نام لکھوانا ہے۔ اور جو اہل ایمان کی اس اگلی صف میں شامل ہونا چاہے ، اس کو اپنا سب کچھ خدا کے حوالے کرنا پڑتا ہے: ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے، بان لہم الجنة (توبہ - ۱۱۱) اس معاودہ میں کہ ان کے لئے جنت ہے۔ غزوہ تبوک (۷۳۰) میں حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا تمام مال پیش کر دیا تھا، حضرت عمر رض نے نصف مال دیا۔ حضرت عثمان غنی نے ایک ہزار اونٹ ، ستر گھوڑے اور دس ہزار دینار دیئے جس سے لشکر کا تہائی خرچ پورا کیا گیا۔ انفاق کی یہی وہ قسم ہے جس کو قرآن میں فی سبیل اللہ خرچ کرنا کہا گیا ہے (حدید - ۱۰) ارشاد ہوا ہے کہ اس راہ میں خرچ نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے (بقرہ - ۱۹۵) کیوں کہ اہل اسلام اگر کلمہ اسلام کی سربلندی کے لئے خرچ نہ کریں تو بالاآخر خود ان کی اجتماعی زندگی ختم ہو جائے گی۔ بحیثیت ایک ملت کے ان کا وجود دنیا میں قائم نہ ہو سکے گا۔ اس انفاق کے لئے سات سو گنا ثواب (بقرہ - ۲۶۱) کی خوش خبری دی گئی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ طبرانی کے مطابق حضرت معاذ بن جبل نے جہاد فی سبیل اللہ میں یاد الہی اور نفقه کے عظیم ثواب سے متعلق حدیث بیان کی۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: قال عبدالرحمن فقلت لمعاذ انما النفقة بسبع عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے معاذ بن جبل سے کہا: جہاد مائة ضَعَف، فقال معاذ قل فهمك انما فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے کا ثواب سات سوگنا ہے۔ ذلک اذا انفقوها وهم مقيمون بين اهلهم حضرت معاذ نے کہا، تیری سمجھ کم ہے۔ یہ ثواب تو اس وقت غير غزاۃ فاذا غزوا وانفقوا خبأ الله لهم من ہے جبکہ وہ صرف خرچ کریں اور خود اپنے بچوں میں مقیم خزانته رحمة ما ينقطع عنه علم العباد و رہیں، جہاد میں شریک نہ ہوں اور جب جہاد میں شریک صفتہم ہوں اور خرچ بھی دیں تو ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے اپنے خزانہ کی ایسی رحمت چھپا رکھی ہے جہاں تک بندے کا علم نہیں پہنچ سکتا اور نہ کوئی اس کے اوصاف کو جان سکتا۔ زکوٰۃ اپنی شکل کے اعتبار سے ایک ٹیکس ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عبادت ہے۔ اس لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page