ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
ریاست خواہ اس کی وصولیابی کے لئے وہی جبری طریقے اختیار کرے جوٹیکس جیسے قانونی مالیہ کے لئے مخصوص ہوتے ہیں ، مگر دینے والا اسی وقت زکوٰۃ کے اصل فائدوں کو پاسکے گا جب کہ وہ ان کیفیات کے ساتھ اسے ادا کرے جو ایک عبادتی فعل کے لئے ضروری ہوتی ہیں ۔ اب جو وہ صدقہ کے ذریعہ خدا سے اچھے اجر کا متوقع ہے تو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس راہ ا- جب وہ صدقہ کے ذریعہ خدا سے اپنے اجر و میں اچھا مال نکال کر دے : يا ايها الذين آمنوا انفقوا من طيبات ماكسبتم ومما اخرجنا لكم من الارض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم باخذيه الا ان تغمضوا فيه بقرہ - ۲۶۷ دن ہے تو اس کے لیے ہے۔ ہی ہمدردی ہے کہ دہ اس ماہ اے ایمان والو، اپنی کمائی میں سے عمدہ چیز کو خرچ کرو اور اس میں سے جو ہم نے تمھارے لتے زمین سے نکالا ہے اور ردی چیز کا قصد نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو حالانکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں، الا یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ۔ حضرت عائشہ رض نے ایک بار باسی گوشت صدقہ کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جس کو تم خود نہیں کھا سکتیں، اس میں سے صدقہ کر رہی ہو" (مسند احمد) ۲۔ جو کچھ دیا جائے لرزاں و ترساں قلب کے ساتھ دیا جائے: اور ڈرتے بھی رہتے ہیں اس بات سے کہ۔۔۔ والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة (مؤمنون - ۶۰) ويطعمون الطعام على حبـه مسكينا ويتيما واسيرا انما نطعمكم لوجه الله لا نريد منكم جزاء ولا شكورا انا نخاف من ربنا يوما عبوسا قمطريرا (دہر - ۸) جو لوگ کہ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اندر ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں۔ باوجود احتیاج کے وہ کھانا کھلاتے ہیں محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو۔ ہم جو تم کو کھلاتے ہیں صرف خدا کی رضامندی کے لئے ہے، ہم تم سے نہ بدلا چاہتے ہیں نہ شکرگزاری، ہم ڈرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے ایک سخت دن سے کہ دائر ہے اس کا برا اور سختی کے ساتھ مھینس ہوئی۔ ۳- جس کو دیا جائے اس پر احسان نہ رکھا جائے اور نہ کوئی بات کہی جائے جس سے اس کی خودداری کو ٹھیس پہنچے: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنَّا وَلَا أَذَى (بقرہ - ۲۶۲) جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ آنار پہنچاتے ہیں۔ ... بینے والا اس طرح دے کہ وہ خدا کے لیے دینے کو نہ اپنے حق میں اقتصادی نقصان سمجھے اور نہ کوئی گمانی محسوس کرے : الَّذِينَ يُنفِقُونَ اموالهم ابتغاء مرضات الله و تثبيتاً من انفسهم (بقره - ۲۷۲) جو اپنا مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی خوشی چاہنے کے لئے اور اپنا دل مضبوط کرنے کے لئے ۔ ۵ - قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صدقات کو چھپا کر دینا زیادہ بہتر ہے (بقره - ۲۷۱) چنانچہ صحابہ اپنے صدقات کو مخفی رکھنے کا خصوصی اہتمام کرتے تھے ۔ عبدالرحمن بن سابط جمعی کے متعلق آیا ہے کہ جب انھیں وظیفہ ملتا تو اپنے گھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader