Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

والوں کے لئے ضروری خوراک خریدتے اور بقیہ رقم کو صدقہ کر دیتے۔ بیوی پوچھتی کہ تمھارا بقیہ وظیفہ کیا ہوا تو وہ جواب دیتے قد اقرضتہ (میں نے اسے قرض دے دیا ہے) اس قسم کے طرز عمل سے گھر کے اندر جو نزاکتیں پیدا ہوتی تھیں، ان سے صحابہ کس طرح نمٹتے تھے، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوگا۔ عن حسان بن عطية قال : لما عزل عمر بن الخطاب معاوية عن الشام بعث سعيد بن عامر بن جذيم الجمحي قال : فخرج معه بجارية من قريش نضيرة الوجه ، فما لبث الا يسيراً حتى اصابته حاجة شديدة ، قال : فبلغ ذلك عمر رضى الله عنه فبعث اليه بالف دينار - قال : فدخل بها على امراته فقال : ان عمر بعث الينا بما ترين ، فقالت لو انك اشتريت لنا اداما و طعاما وادخرت سائرها ، فقال لها اولا ادلك على افضل من ذلك ندفعها الى من ياتينا بها احوج ما نكون اليها ابو نعيم ، حلية الاولياء جلدا صفحه ۲۴۴ حضرت عمرؓ نے جب حضرت معاویہؓ کو شام سے معزول کیا تو ان کی جگہ حضرت سعید بن عامرؓ کو روانہ کیا۔ وہ اپنی بیوی کو جو قریش کی ایک لڑکی تھی اور تر و تازہ چہرے والی تھی، لے کر چلے، جلد ہی انھیں شدید ضرورت پیش آئی حضرت عمرؓ کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے ایک ہزار دینار ان کے پاس بھیجے۔ وہ ان کو لے کر گھر میں گئے اور بیوی سے کہا کہ عمرؓ نے، یہ جو تم دیکھ رہی ہو، ہمارے لئے بھیجے ہیں۔ بیوی نے کہا بہتر ہے کہ آپ اس سے خوراک اور ضرورت کا سامان خرید کر جمع کر لیں۔ انھوں نے کہا، کیا میں اس سے زیادہ بہتر بات تمھیں نہ بتاؤں۔ ہم ان دیناروں کو ایسے شخص کے پاس رکھ دیں جو ان کو اس وقت ہمارے پاس لائے جب کہ ہمیں ان کی زیادہ ضرورت ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد انہوں نے خاموشی سے تمام مال صدقہ کر دیا۔ بیوی کو معلوم ہوا تو اس نے رونا شروع کیا اور گھر کے اندر وہ نازک مسائل پیدا ہو گئے جو ایسے موقع پر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ انہوں نے بیوی کو سمجھایا اور آخر میں کہا: یا از روئے ہمدردی و خیر خواہی پیدا ہوئے ہیں۔ فلانت احرى فى نفسى ان ادعك لهن من ان ادعهن لك بالآخر عورت راضی ہوگئی (فصحت ورضیت) تو میرے نزدیک زیادہ مستحق ہے کہ میں جنتی حوروں کے لئے تجھے چھوڑ دوں بہ نسبت اس کے کہ میں جنتی حوروں کو تیری خاطر چھوڑ دوں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا شوق صحابہ میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک بار آپ نے اعلان فرمایا: تصدقوا فانی ارید ان ابعث بعثا (صدقہ دو، میں ایک لشکر بھیجنا چاہتا ہوں) ابو عقیل انصاری کے پاس اس وقت کچھ نہیں تھا، انھوں نے ایک شخص کے باغ میں رات بھر پیٹھ پر پانی لاد کر سینچائی کی۔ صبح کو اس کے معاوضہ میں دو صاع (پانچ سیر) کھجوریں ملیں۔ انھوں نے ایک صاع کھجور اپنے گھر والوں کے لئے چھوڑی اور ایک صاع کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت سعد بن عبادہ نے یہ نظام بنا رکھا تھا کہ ایک سال وہ جہاد میں جاتے اور ان کے صاحبزادے قیس گھر کی دیکھ بھال کرتے اور ایک سال ان کے لڑکے (قیس) جہاد میں جاتے اور وہ خود گھر پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page