ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
رہ کر معاشیات کا انتظام کرتے۔ انھوں نے اپنی اولاد کو کس طرح تیار کیا تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے مہمان آکر ٹھہرے ۔ اس وقت سعد بن عبادہ کسی سفر میں تھے انھیں خبر ہوئی تو انھوں نے کہا : ان يك قيس فيقول يا نسطاس إھات اگر قیس میرا بیٹا ہے تو وہ میرے خادم نسطاس سے المفاتيح اخرج لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہے گا ، چابیاں لا ، میں رسول اللہ کے لیے آپ کی ضرورت حاجته ، فيقول نسطاس : هات من ابيك کا سامان نکال دوں ۔ نسطاس کہے گا اپنے باپ کے پاس كتابا ، فيدق انفه ويأخذ المفاتيح ويخرج سے پرچہ لے آؤ۔ تو میرا بیٹا اس کی ناک توڑ دے گا اور لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجته اس سے چابیاں لے کر رسول اللہ کی ضرورت کا سامان (الاصابه) نکال دے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور قیس نے مہمانوں کی ضروریات کے لئے آپ کی خدمت میں ایک سو وسق کھجوریں پیش کیں۔ صدقہ کی اہمیت کو حضرت ابوذر غفاری نے بڑے حکیمانہ انداز سے بیان کیا ہے : في المال ثلاثة شركاء : القد دلايستأمرك مال میں تین شریک ہوتے ہیں۔ ایک تقدیر جو مال کے لے ان يذهب بخيرها وشرها من هلاك جانے میں تم سے مشورہ نہ کرے گی ، وہ اچھا ہو یا برا، ہلاک او موت والوارث ينتظر ان تضع رأسك ثم کر کے یا تم کو موت دے کر ۔ دوسرے وارث جو اس يستاقها وانت ذميم ، فان استطعت ان لا انتظار میں ہے کہ تو قبر میں اپنا سر رکھے اور دہ مال کو پہلے تكون اعجز الثلاثة فلا تكونن ، فان الله عز و اور تو اس کی نظروں میں برا ہو۔ تیسرا تو خود ہے۔ اگر جل يقول : لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تجھ سے ہو سکے کہ تو تینوں شرکا میں سب سے زیادہ عاجز تحبون نہ ٹھہرے تو ایسا ضرور کر، کیوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو حلیة الاولیاء ، جلد ا صفحه ۱۶۳ جو تمھیں محبوب ہے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رض مدینہ میں اپنے مکان میں تھیں کہ انھیں شور سنائی دیا۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا تجارتی قافلہ ہے جو شام سے آرہا ہے۔ اس میں سات سو اونٹ سامانول سے لدے ہوئے تھے۔ حضرت عائشہ نے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے عبد الرحمن بن عوف کو دیکھا کہ وہ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہورہے ہیں ۔“ یہ بات عبدالرحمن بن عوف کو پہنچی تو انھوں نے کہا : اگر مجھ سے ہوسکا تو میں جنت میں کھڑے ہو کر داخل ہوں گا ۔ اس کے بعد انھوں نے ان تمام اونٹوں کو مع ان کے پالان اور لدے ہوئے سامان کے اللہ کے راستے میں دے دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن سابق بھی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا : قیامت میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو حساب کے لیے جمع کرے گا تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader