Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

فقراء ، مومنین پھد کتے ہوئے آئیں گے جیسے کبوتر پھدکتا ہے۔ ان سے کہا جائے گا ، حساب کے لئے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس کوئی حساب نہیں ، نہ تم نے ہمیں کچھ دیا تھا۔ ان کا پروردگار فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا۔ ان کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور وہ تمام لوگوں سے ستر سال قبل جنت میں داخل ہونگے۔ زکوۃ کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں اس کا تقابل سود سے کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ خدا زکوۃ کو بڑھاتا ہے اور جس معاشی نظام کی بنیاد سود پر قائم ہو اس کا منہ مار دیتا ہے۔ یمحقت اللہ الربا ویربی الصدقات (بقرہ - ۲۷۶) خدا سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے : وما آتیتم من ربا ليربوا فی اموال الناس فلا يربوا اور جو دیتے ہو تم سود کہ بڑھتا رہے لوگوں کے مال میں، عند الله وما آتیتم من زكوة تريدون وجه الله وہ نہیں بڑھتا اللہ کے یہاں ۔ اور جو دیتے ہو مال اللہ کی فاولئك هم المضعفون (روم - ۳۹) رضا چاہ کرو، تو وہی ہیں جن کے مال بڑھائے گئے۔ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ سود سے قیام حاصل نہ ہوگا : الذین یا کلون الربا لا يقومون الا كما يقوم الذي جو لوگ سود کھاتے ہیں، نہیں کھڑے ہوں گے مگر جیسا کہ کھڑا يتخبطه الشيطان من المس (بقرہ - ۲۷۵) ہوتا ہے وہ شخص جس کو شیطان باولسا بنا دے لپٹ کر اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ ” جب کوئی قوم زکوۃ چھوڑ دینی ہے تو اللہ تعالی اس کو خشک سالی اور قحط میں مبتلا کر دیتا ہے“ (اوسط طبرانی) خدا نے معیشت کا جو فطری نظام بنایا ہے، سود اس نظام کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف جنگ کرنے تک کا حکم دیا گیا ہے۔ (بقرہ ۷۹، ۲۷۸) زکوۃ اور سود میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ سے گردش دولت پیدا ہوتی ہے اور سود سے ارتکاز دولت ۔ زکوۃ کی بنیاد پر بننے والے نظام میں بیک وقت دو معاشی قدریں موجود ہوتی ہیں۔ ایک ، زر سے زر پیدا کرنے کے بجائے محنت سے زر پیدا کرنے کا رجحان ۔ دوسرے ، دولت کو سٹاڈ سے روکنے کا عمل۔ کیوں کہ زکوۃ راس المال پر لگائی جاتی ہے (نہ کہ موجودہ انکم ٹیکس کی طرح صرف نفع پر) اس طرح سرمایہ کے دائمی طور پر ایک جگہ مجتمع ہونے کی نوبت نہیں آتی ۔ اس کے برعکس سود میں یہ دونوں معاشی قدریں الٹ جاتی ہیں۔ ایک طرف اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زر سے زر حاصل کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کے پاس ایک بار دولت آجائے وہ اس دولت کو لازمی طور پر بڑھاتا رہے بغیر اس کہ دہ معاشیات عامہ میں کسی قسم کا اضافہ کر رہا ہو۔ یہ چیز ایک ایسے اقتصادی استحصال کو وجود میں لاتی ہے جو کسی حد پر نہیں رکتی۔ مزید یہ کہ سود کے نظام میں کوئی ایسی تدبیر نہیں جو دولت کو دائمی طور پر ایک جگہ سمٹنے سے روک سکے۔ حج حج کی حقیقت قربانی ہے۔ حج کے لئے آدمی سفر کرتا ہے جو وقت کی قربانی ہے۔ اس کے اخراجات برداشت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page