ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتا ہے جو مال کی قربانی ہے۔ جانور ذبح کرتا ہے جو جان کی قربانی ہے۔ سعی و طواف کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی تو جہات کو ہر طرف سے سمیٹ کر صرف ایک اللہ کے لئے وقف کر دے گا۔ وہ کون سا خدائی مشن ہے جس میں مومن کو یہ تمام قربانیاں دینی ہیں وہ ہے دنیا میں اللہ کے نام کا چرچا کرنا : فاذا قضيتم مناسكم فاذكروا الله كذكركم آباءكم او اشدد ذكرا (بقرہ - ۲۰۰) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انما جعل رمي الجمار والسعي بين الصفا والمروة رمی جمار اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کو اللہ کا ذکر لاقامة ذكر الله (مشكوة كتاب المناسك) قائم کرنے کے لئے مقر ر کیا گیا ہے ۔ حج کا یہ پیغام ہم کو داعی اعظم سیدنا ابراہیم علیہ السلام (۱۹۸۵ - ۲۱۰ ق م) کی زندگی کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی ساری زندگی خدائی مشن کے لئے وقف کر دی تھی جس کی آخری حد یہ ہے کہ آپ نے اپنے بیٹے کو بھی اس راہ میں قربان کر دیا۔ حج کا ہر عمل ہم کو اسی داعی اعظم کی زندگی کی یاد دلاتا ہے: تقوا علی مشاعركم فانتم على ارث من ارث ابيكم اپنے مشاعر (مقامات حج پر ٹھہرو۔ کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم مشكوة كتاب المناسك ابراہيم کی ایک وراثت کے وارث ہو۔ حضرت ابراہیم ، جن کی زندگی سراپا دعوت تھی، کی دعوتی زندگی کے بعض تاریخی مراحل کو علامتی طور پر دہر ا کر ہر حاجی اپنے خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی کو اسی طرح دعوت حق اور اشاعت دین کے لئے وقف کر دے گا اور اس پر ہر حال میں قائم رہے گا، خواہ اس راہ میں اس پر وہ تمام مراحل کیوں نہ گزر جائیں، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر اس راہ میں گزرے : سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حاجی کسے کہتے ما الحاج قال الشعث التفلقام آخر فقال ہیں ۔ آپ نے فرمایا پرا گندہ بال اور بودار۔ پھر دوسرا يا رسول الله اى الحج افضل قال الحج والثبح شخص اٹھا اور پوچھا اے خدا کے رسول کون سا حج افضل مشكوة، كتاب المناسك ہے ۔ آپ نے فرمایا: غبار آلود ہونا اور خون بہانا۔ دوسرے لفظوں میں حج کی بے ترتیب زندگی اور اس کے مجنونانہ اعمال محض بے روح مراسم نہیں ہیں جن کا آدمی کی اصل زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ در اصل مقصدی دیوانگی کی تصویر اور اس راہ میں جان کی قربانی کی حد تک جانے کے عزم کا مظاہرہ ہے۔ حج کے مناسک و مراسم کی شکل میں بندہ گویا اپنے آپ کو آخری طور پر اپنے رب کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ حج کا سفر اس کے لئے وقت اور مال کی قربانی کے ہم معنے ہے۔ احرام باندھنا اس بات کی علامت ہے کہ بندہ ضروری احتیاجات کے سوا ہر چیز سے دست کش ہو گیا ہے ۔ طواف اور سعی اپنے آپ کو ہمہ تن رب کعبہ کے لئے وقف کر دینے کی تصویر ہے۔ رمی جمار اس بات کا مظاہرہ ہے کہ خدا کے دشمنوں کے ساتھ اس کا رویہ مصالحت اور تعادن کا نہیں ہوگا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader