ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ اختلاف اور تصادم کا ہوگا۔ جانور کی قربانی اپنے رب کے لئے فداکاری و جانسپاری کا عہد ہے۔ عرفات کے میدان میں قیام میدان حشر میں سارے انسانوں کے خدا کے حضور جمع ہونے کی تمثیل ہے۔ اس طرح حج کے مختلف اعمال کے ذریعہ بندہ کو فدائیت ، قربانی اور خدا و آخرت کے استحضار کا سبق دیا جاتا ہے اور اس کے اندر اپنے مولیٰ سے وہ عشق پیدا کیا جاتا ہے کہ وہ اس کی مرضی پوری کرنے کے لئے دیوانہ وار اس کی راہ پر چل پڑے ۔ اسلام کے چاروں عبادتی ارکان چار مختلف پہلوؤں سے ایک ہی مشترک کیفیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں ، اور وہ یہ کہ انسان کا رخ ہمہ تن اپنے خالق کی طرف ہو جائے اور وہ اس کی مرضی پوری کرنے کے سوا اپنی زندگی کا کوئی اور مقصد نہ سمجھے۔ روزہ اس کیفیت کو طبیعی حاجات کے ڈھانچہ میں انجام دیتا ہے۔ نماز اس کو اعضاد جوارح کے واسطے سے بروئے کار لاتی ہے۔ زکوٰۃ میں یہی مقصد مالیات کے پہلو سے حاصل کیا جاتا ہے اور حج کی عبادت میں یہی مطلوب کیفیت، اسلامی تاریخ کے سانچہ میں گزار کر حاصل کی جاتی ہے۔ حج کی عبادت کا بہت گہرا تعلق حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے ہے۔ آپ قدیم عراق کے شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ آپ کا باپ بت خانہ کا سردار تھا۔ آپ نے بتوں کو توڑا۔ اپنے باپ پر تنقید کی۔ بادشاہ کے سامنے حق کا اعلان کیا ، قوم کو اس کی گمراہی سے آگاہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سب آپ کے دشمن ہو گئے ۔ آپ کو گھر بار چھوڑنا پڑا۔ آپ اپنی بیوی (سارہ) اور اپنے بھتیجے (لوط) کو لے کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے ۔ مگر حق کی تبلیغ کرنا آپ نے نہیں چھوڑا ۔ بلکہ جو تبلیغی کام پہلے شہر اُر تک محدود تھا ، اس کو آپ آپ نے بین اقوامی سطح پر کرنے کا نظام بنایا ۔ آپ نے اپنے بھتیجے لوط کو سعد دم کے علاقہ میں مبلغ بنا کر یہ ٹھٹایا ۔ یہ وہ علاقہ تھا جس کو آج کل شرق اردن کہا جاتا ہے۔ اپنے چھوٹے لڑکے اسحاق کو اسی مقصد کی خاطر کنعان کے علاقہ میں آباد کیا جو اب فلسطین کے نام سے مشہور ہے۔ بڑے لڑکے اسمٰعیل کو حجاز میں مکہ کے مقام پر تعین کیا ۔ مکہ میں آپ نے ایک مرکزِ اسلام (بیت اللہ) کی تعمیر کی اور خدا سے دعا کی کہ میں نے اس وادی غیر ذی زرع میں اپنی اولاد کو لا کر تیرے دین کے لئے بسایا ہے تو ان کی نسل سے ایک نبی پیدا کر جو لوگوں کو حق سے آگاہ کرے (بقرہ - ۱۲۹) اسی دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں آپ کی نسل کی اسماعیلی شاخ میں پیغمبر آخر الزماں پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم کو ۵۷، اسال کی عمری۔ اُر سے لے کر مکہ تک آپ کی دعوتی زندگی تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس دعوتی زندگی میں جو مختلف مراحل پیش آئے ، انھیں کو مختصر علامت طور پر دہرانے کا دوسرا نام حج ہے۔ سفر کر کے مرکزِ اسلام میں پہنچنا ، بیت اللہ کا طواف ، صفا اور مروہ کے درمیان سعی ، منی کے لئے روانگی ، عرفات کے میدان میں ٹھہرنا ، مزدلفہ میں رات گزارنا ، جمرات میں کنکریاں مارنا ، منیٰ میں قربانی کرنا ، یہ سب کیا ہے، سے حج کے لغوی معنیٰ ہیں قصد کرنا ۔ حجت فلانا۔ یعنی میں فلاں کے پاس گیا۔ اس عبادت کی ادائیگی کے لئے چونکہ ساری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ملکوں سے نکل کر ایک خاص مقام پر آتے ہیں اس لئے اس کا نام حج پڑ گیا۔ یہ لفظ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بھی موجود تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader