صراط مستقیم
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
صراط مستقیم صراطِ مستقیم کیا ہے؟ - ۹ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کے لئے ایک محکم راستہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر چیز نہایت درجہ پابندی کے ساتھ اسی مقرر راستہ پر چلی جارہی ہے (حم سجدہ - (۱۱) حتیٰ کہ شہد کی مکھی بھی (نحل : ۴۹ - ۶۸) جس طرح کائنات کی دوسری چیزوں کی صحیح کارکردگی کے لئے ضروری ہے کہ وہ سبیل اللہ پر بالکل ذلول بن کر چلتی رہیں (نحل - ۶۹) اسی طرح انسان کی کامیابی کا راز بھی اسی میں ہے۔ البتہ انسان چونکہ حالت امتحان میں ہے اس لئے اس کو صرف بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے اور اس کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے خواہ اس کو پکڑلے یا اس سے انحراف کرے (دہر - ۳) جب خدا نے خود یہ بتا دیا ہے کہ سبیل اللہ کیا ہے تو انسان کو چاہئے کہ اس پر اعتماد رکھے اور اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کرلے کہ یہی واحد راستہ ہے جو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے (ابراہیم - ۱۲) اگر آدمی کسی وقتی سبب سے متاثر ہو کر کسی اور راستہ کی طرف جھکاتو سبیل اللہ اس سے چھوٹ جائے گی اور جس سے سبیل اللہ چھوٹ جائے اس کے لئے اس دنیا میں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں : (انعام - ۱۵۳) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی انسان انسان ہے جو صراطِ مستقیم پر ہو، جو صراطِ مستقیم سے ہٹ جائے وہ گویا مقامِ حیوانیت پر جاگرا: أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّنْ کیا وہ شخص جو (جانور کی طرح) اوندھے منہ چلتا ہو، يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ قُلْ هُوَ الَّذِيْ راہ یافتہ ہے یا وہ شخص جو (اننسان کی طرح) سیدھا صراطِ أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ مستقیم پر چل رہا ہو۔ کہہ دو، خدا ہی نے تم کو پیدا کیا، وَقَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے مگر تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو۔ (ملک ۲۳ - ۲۲) معلوم ہوا کہ صراطِ مستقیم پر ہونا یہ ہے کہ آدمی سمع و بصیر و فواد کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے زندگی گزار رہا ہو۔ یہ سمع و بصیر و فواد کیا ہیں۔ یہ وہی چیزیں ہیں جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں، جو ایک ”جاندار“ کو محض جان دار کے مقام سے اٹھاکر انسان کے مقام پر کھڑا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس حیوانوں کی مثال ہے، جو اگرچہ چلتے پھرتے ہیں مگر سمع و بصیر و فواد کی ان صلاحیتوں سے محروم ہیں جو مخصوص طور پر انسان کو دی گئی ہیں۔ اب جو لوگ انسانی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہوئے ان سے کام نہیں انھوں نے گویا اپنے کو مقام انسانیت سے گراکر مقامِ حیوانیت پر ڈال دیا۔ چنانچہ ان کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ وہ کتے کی مانند ہیں (اعراف - ۱۷۶) وہ گدھے کی مانند ہیں (جمعہ - ۵) وہ چوپائے کی مانند ہیں (فرقانی - ۴۳) حتیٰ کہ ان کی زیادہ بگڑی ہوئی قسموں کو بندراور سور (مائدہ۔ ۶۰) قرار دیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader