Urdu book · اسلام

صراط مستقیم

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ہے۔ بلکہ ان سے بھی بدتر : اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ خدا کے نزدیک بدترین جانور وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں، لَا يَعْقِلُونَ (انفال - ۲۲) گونگے ہیں، کچھ نہیں سمجھتے۔ ایک بات جو عقل کے استعمال سے بخوبی سمجھی جاسکتی ہو اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا گویا مخاطب کے پاس عقل ہی نہیں، اللہ کی نظر میں آدمی کو اندھا بہرا بنا دیتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین تقویم پر پیدا کیا۔ پھر اس کو بدترین پستی میں ڈال دیا۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ (التین)۔ اول الذکر سے مراد مقام انسانیت اور ثانی الذکر سے مراد مقام حیوانیت ہے۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مقام انسانیت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو مقام حیوانیت میں ڈال دیا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پستی سے اٹھا کر بلندی کی طرف لے جائے ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ اگر ہم چاہتے تو اپنی نشانیوں کی بدولت اس کو بلند مرتبہ کر دیتے ۔ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ اعراف - ۱۷۶ مگر وہ زمین سے لگ گیا اور اپنی خواہش کی پیروی کی۔ اس قسم کی آیتوں میں جن لوگوں کو اندھا، بہرا، بے عقل کہا گیا ہے، وہ عضویاتی معنوں میں اندھے بہرے نہیں ہو گئے تھے، نہ پاگلوں کی طرح فی الواقع کسی گڑھے میں اندھے منھ پڑے ہوئے تھے۔ یہ لوگ تھے جو اپنے وقت میں علم اور دانش کے امام سمجھے جاتے تھے ۔ وہ عالی شان مکانات اور قلعے بناتے تھے۔ تجارت، زراعت اور باغبانی کے ماہر تھے۔ وہ قوموں اور ملکوں کی قیادت کر رہے تھے۔ سورہ اعراف کی مذکورہ بالا آیت (۱۷۶) کے سلسلے میں شان نزول کی جو روایتیں ہیں، ان میں عرب کے امیہ بن ابی الصلت کا نام آتا ہے جو نہ صرف اپنی امارت اور فیاضی کے لئے بلکہ شاعری اور حکمت کے لئے بھی مشہور تھا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ کے آخر زمانہ کے ایک شخص بلعام ابن لبوء کا نام آیا ہے جو عالم اور زاہد کی حیثیت سے اس وقت کے عراق کا ایک ممتاز ترین آدمی تھا۔ عبادہ بن الصامت سے مروی ہے کہ دہ قریش کے سرداروں کو اس کا مصداق سمجھتے تھے، جو کعبہ کے متولیٰ ہونے کی وجہ سے پورے عرب کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ (البحر المحیط) پھر اندھے بہرے ہونے کا مطلب کیا ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے انسان اور حیوان کے فرق پر غور کیجئے ۔ حیوان میں بظاہر وہ ساری چیزیں ہوتی ہیں جو انسان کے اندر ہیں۔ وہ چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، دیکھتا سنتا ہے۔ دکھ درد کا احساس کرتا ہے۔ پھر وہ کیا چیز ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں ۔ ماہرین حیاتیات بتاتے ہیں کہ وہ فرق یہ ہے کہ انسان تصوری فکرہ (Conceptual Thought) کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سوچ کر کسی بات کو ماننا بغیر اس کے کہ وہ چیز ایک مادی حقیقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کے لئے سامنے موجود ہو۔ حیوانات اس قسم کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اسی سے مقام انسانیت اور مقام حیوانیت کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ مقام حیوانیت یہ ہے کہ آدمی کو مادی حقائق اور مفاد و مضار کے سوا کوئی اور چیز متحرک نہ کر سکے۔ اس کے برعکس مقام انسانیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page