Urdu book · اسلام

صراط مستقیم

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ ذہنی طور پر کسی چیز کی سچائی ثابت ہو جانے کے بعد اس کو مان لیا جائے اور اس کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نقشہ بنایا جائے ۔ قرآن میں ارشاد مہا ہے : ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۙ فِيهِ ۙ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ اس کتاب میں کچھ شک نہیں ۔ راہ دکھاتی ہے ڈرنے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ بقرہ - ۲ والوں کو ، جو یقین کرتے ہیں بن دیکھے۔ قرآن میں ہدایت ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن کا حال یہ ہو کہ صرف مادی حقائق کا زور یا نفع و نقصان کا اندیشہ ہی انہیں متاثر کر سکتا ہو۔ اس کتاب سے وہ لوگ ہدایت پاتے ہیں جو ایسی صداقتوں کو ماننے کے لئے تیار ہوں جن کی اہمیت تمام تر ذہنوں میں ہوتی ہے ۔ خارجی حقائق کا زور جن کو منوانے کے لئے دنیا میں موجود نہیں ہوتا۔ گویا ایمان بالشہود مقام حیوانیت ہے اور ایمان بالغیب مقام انسانیت ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر کے قبول اسلام کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ما دعوت احدا الى الاسلام الا كانت عنده میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی دعوت دی ، اس کو کچھ كبوة وتردد ونظر الا ابا بكر، ما علم عنه حين نہ کچھ جھجک اور تردد اور فکر ضرور ہوا، سوا ابو بکر کے، ذكرته ولا تردد فيه جب میں نے ان کو اسلام کے متعلق بتایا تو انھوں نے کسی تردد اور تامل کے بغیر فورا اسلام قبول کرلیا۔ ( البدایہ والنہایہ ، جلد ۳، صفحه (۴۷) یہ مقام انسانیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے جو ابو بکر صدیق کو حاصل تھا۔ یہ خالص جوہر ذاتی کی بنیاد پر کسی چیز کی قدر و قیمت کو سمجھ سکتے تھے ۔ کوئی شخص پیغمبر اسلام کی اعلیٰ شخصیت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا، کوئی معجزات سے، کوئی قرآن کے مافوق ادب سے، کوئی فتح مکہ سے، کوئی اسلام کی مادی برکات سے۔ مگر ابو بکر صدیق اتنے بلند فکری مقام پر تھے کہ مجرد حسن و قبیح کی بنیاد پر کسی چیز کو قبول یار دکر سکتے تھے۔ اسی طرح جب حضرت ابو بکر نے مرض وفات کے وقت حضرت عمر فاروق کے حق میں خلافت کی وصیت فرمائی تو لوگوں میں عام بے چینی پیدا ہوگئی : فدخل علیه طلحة بن عبيد الله فقال انا رسول طلحہ بن عبید اللہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ لوگوں نے من ورائی اليك يقولون: قد علمت غلظة عمر مجھے اپنا قاصد بنا کر آپ کے پاس بھیجا ہے وہ کہہ رہے ہیں علينا فى حياتك فكيف بعد وفاتك اذا افضيت اليه کہ ہم لوگوں پر حضرت عمر کی سختی آپ نے اپنی زندگی ہی میں امورنا و الله سائلك عنه فانظر ما انت قائل دیکھ لی ہے پھر اپنے بعد جب ہمارے کام آپ ان کے حوالے کر دیں گے تو کیا حال ہوگا ۔ اور اللہ آپ سے ان کے بارے میں سوال کرے گا پھر آپ اس وقت کیا جواب دینگے۔ مگر جو لوگ مقام انسانیت کے اعلیٰ درجے پر تھے ، وہ ظاہر سے گزر کر باطن کو دیکھ رہے تھے ، انھیں نظر آ رہا تھا کہ حضرت عمر کی سختی اپنی ذات کے لئے نہیں، بلکہ دین کے لئے ہوتی ہے اور ان کے سینہ کے اندر جو قلب خاشع ہے وہ ان کے حق پر قائم رہنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ ان کے ظاہر پر نہ جاؤ، کیوں کہ ان کا باطن ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page