Urdu book · اسلام

اسلام

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر سے بہتر ہے (سريرته خير من علانيته) یہی بات حضرت ابوبکر نے بھی دوسرے الفاظ میں فرمائی۔ جو شخص صراط مستقیم پر ہو اس کے اندر اعتراف کا اعلیٰ ترین مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔ قریش نے آپ کی زبان سے قرآن کو سنا تو بول اٹھے " یہ تو شاعر کا کلام ہے " شاعر کا لفظ ان کے یہاں کوئی برا لفظ نہ تھا۔ مگر اللہ کے نزدیک وہ " ایمان قلیل " تھا ، ایمان کُلی نہ تھا (حاقہ ۔ ۴۱) وہ اس کو شاعر کا کلام بتا کر یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ یہ بس ایک ادبی کارنامہ ہے ۔ اس میں ملت ابراہیمی کی قدیم تعلیمات کو اچھوتے انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کتاب الہی کی یہ حیثیت ہو جاتی تھی کہ ایک ادبی اعتراف اس کا حق ادا کرنے کے لئے کافی ہے۔ حالاں کہ قرآن کا اصلی حق یہ تھا کہ اس کو صداقتِ اعلیٰ کا اظہار سمجھا جائے اور اس کو " حق الیقین " کے ساتھ پکڑ لیا جائے۔ مکہ میں داخلہ سے ایک دن پہلے جب آپ نے ابوسفیان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرنے کے لئے فرمایا تو انھوں نے کہا: بأبی أنت دامی ما احلمك واكرمك داد صلتك ، هذ لا والله كان في النفس منها شئ حتی الآن ۔ اس کے بعد جب آپ کے چچا عباس نے صورتِ حال کی نزاکت کا احساس دلایا تو انھوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ ابوسفیان کے لئے آپ کی شرافت، آپ کی بردباری کا اعتراف کرنا آسان تھا۔ کیونکہ اس کے بعد بھی ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی تھی کہ ان کے اور آپ کے درمیان اگر فرق ہے تو وہ صرف اخلاقی ہے نہ یہ کہ آپ کا نظریہ صحیح ہے اور ان کا غلط۔ اور بلاشبہ نظریاتی اعتراف کسی انسان کے لئے اخلاقی اعتراف کے مقابلہ میں بہت زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ انفرادی صراط مستقیم متفرق اور منحرف راستوں کے درمیان اللہ کا سیدھا راستہ کیا ہے ۔ اس کو قرآن میں نہایت وضاحت کے ساتھ بتا دیا گیا ہے ۔ انفرادی زندگی کے بارے میں بھی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں بھی۔ قرآن کی چھٹی سورہ کا ایک ٹکڑا حسب ذیل ہے : قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم الا تشركوا به کہو ، آؤ میں سنا دوں جو حرام کیا ہے تم پر تمھارے رب نے شيئاً وبالوالدين احسانا ولا تقتلوا اولادكم من کہ شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی چیز کو، اور ماں باپ املاق نحن نرزقكم وايا هم ولا تقربوا الفواحش ما کے ساتھ نیکی کرو اور اپنی اولاد کو مار نہ ڈالو مفلسی کے ظهر منها وما بطن ولا تقتلوا النفس التي حرم الله ڈر سے، ہم روزی دیتے ہیں تم کو اور ان کو، اور نزدیک الا بالحق، ذلكم وصکم به لعلكم تعقلون ۔ ولا تقربوا نہ جاؤ بے حیائی کے کام کے خواہ وہ کھلا ہو یا چھپا، اور مال اليتيم الا بالتی هی احسن حتی يبلغ اشده و مار نہ ڈالو جان، جس کو حرام کیا ہے اللہ نے، مگر حق پر ۔ اوفوا الكيل والميزان بالقسط لا نكلف نفسا الا اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سمجھو اور نزدیک نہ جاؤ وسعها ۔ واذا قلتم فاعدلوا ولو كان ذا قربی یتیم کے مال کے ۔ مگر ایسے طریقے سے جو کہ محسن ہے وبعهد الله اوفوا ۔ ذلكم وصكم به لعلكم تذكرون یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ اور تول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page