انفرادی صراط مستقیم
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
وَإِنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا کو پورا کرو اور انصاف کے ساتھ ہم کسی پر اس کی طاقت السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے۔ اور جب بات کہو بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تو حق کی کہو، گو وہ شخص قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور اللہ انعام : ۵۳ - ۱۵۲ کے عہد کو پورا کرو ، اللہ تم کو یہ بتاتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس پر چلو اور مت پیروی کرو اور راہوں کی وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی ، اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم خلاف ورزی سے بچو۔ یہ انفرادی زندگی کی صراط مستقیم ہے اور اس کا خلاصہ ہے ــــــــــ توحید، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک، خدا پر اعتماد، برائی سے بچنا، جان کا احترام کرنا، ظالمانہ رویہ سے پرہیز، لین دین میں دیانت داری، ہر حال میں انصاف پر قائم رہنا، خدا کے ساتھ عہد بندگی کو پورا کرنا۔ ہر معاملہ میں تقویٰ کی روش اختیار کرنا ۔ جو لوگ صراط مستقیم پر ہوں، وہ اللہ کے انعام یافتہ گردہ ہیں (فاتحہ) ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لایا گیا ہے (ابراہیم -1) ان کو خدا کی رحمت اور فضل میں سے خصوصی حصہ ملا ہے (نساء - ۱۷۵) حتیٰ کہ ان پر خدا کی نعمتوں کا اتمام کر دیا گیا ہے (فتح - ۲) ظاہر ہے کہ جو لوگ ان خصوصیات کے حامل ہوں ، ان کی زندگیاں عام انسانوں جیسی نہیں ہو سکتیں ۔ ضروری ہے کہ ان کی زندگی میں یہ یافت مختلف شکلوں میں ظاہر ہو۔ ۱۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انہیں اعلیٰ ایمانی کیفیات حاصل ہوتی ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے ایک شخص سے کہا: تعال نومن ساعة (آؤ ہم تھوڑی دیر کے لیے ایمان لائیں) یہ سن کر وہ آدمی بگڑ گیا۔ ” کیا ہم مومن نہیں ہیں“ (اولسنا بمومنین) اس نے کہا۔ ابن رواحہ نے جواب دیا بے شک ہم مومن ہیں۔ مگر جب ہم اللہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور شکایت کی کہ ابن رواحہ عجیب آدمی ہیں ۔ وہ آپ کے ایمان کو چھوڑ کر ایک ساعت کے ایمان کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : يرحم الله ابن رواحة ، انه يحب المجالس التى اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے، وہ ایسی مجالس کو پسند تتباهى بها الملائكة (احمد عن انس بن مالک) کرتے ہیں جن پر فرشتے بھی فخر کرتے ہیں ۔ حضرت ابن رواحہ نے جو بات کہی، وہ برتر ایمانی کیفیت کا ایک جملہ تھا۔ مگر جو شخص قانونی اسلام کے مقام پر تھا، وہ اس کو سمجھ نہ سکا۔ ۲۔ ایسے لوگوں کے لیے ایمان بے معنی رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ اندیشہ انھیں پڑ رہتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزاریں جو خدا کی راہ سے ہٹی ہوئی ہو۔ قرآن میں جب یہ آیت اتری:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader