Urdu book · اسلام

انفرادی صراط مستقیم

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ (توبہ - ۳۴) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تب للذہب، تبا للففضۃ (خرابی ہو سونے کے لئے خرابی ہو چاندی کے لئے آپ کے اصحاب پر یہ بات بہت شاق گزری۔ انھوں نے آپس میں کہا: فای مال نتخذ (اب ہم کس مال کو جمع کریں) اس کے بعد حضرت عمر اس مسئلہ کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ليتبخذ احدکم لسانا ذاكرا و قلبا شاکرا و تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان، شکر زوجة مؤمنة تعین احدهم على ايمانه کرنے والا دل، اور ایسی بیوی اختیار کرے جو آدمی (تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحه ۳۵۱) کے ایمان پر اس کی مدد کرے ۔ ۳۔ اس کے اندر اعتراف کا مادہ کمال درجہ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ جابر بن الازرق غاضری ایک صحابی ہیں۔ وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ ہو گئے ۔ راستہ میں ایک جگہ آپ نے قیام فرمایا اور سواری سے اتر کر اپنے چمڑے کے خیمہ میں داخل ہو گئے ۔ خیمہ کے دروازے پر لوگوں کا ہجوم ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے دھکا دے کر دروازے سے ہٹانا چاہا۔ میں نے کہا: اب اگر تو نے مجھے دھکا دیا تو میں بھی تجھ کو دھکا دوں گا اور اگر تو نے مجھے مارا تو میں بھی تجھے ماروں گا۔ یہ سن کر وہ آدمی بولا : یا اشرا للرجال (اے لوگوں میں سب سے زیادہ شریر) میں نے کہا خدا کی قسم تو مجھ سے زیادہ شریر ہے۔ اس نے کہا تم نے یہ بات کیسے کہی۔ میں یمن کے اطراف سے آ رہا ہوں تاکہ رسول اللہ سے کچھ سنوں اور واپس جا کر ان لوگوں سے بیان کروں جو میرے پیچھے ہیں۔ اور تو ہے کہ مجھے روک رہا ہے۔ یہ سنتے ہی جابر بن الازرق غاضری کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ فوراً ان کی زبان سے نکلا : صدقت نعم والله لا ناشد منك (كنز العمال) ہاں تو نے سچ کہا۔ خدا کی قسم میں تجھ سے زیادہ شریر ہوں ۔ ۴۔ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ مسند امام احمد میں ام سلمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک مقدمہ لے کر آئے۔ ایک وراثتی جائداد پر دونوں جھگڑ رہے تھے۔ ہر ایک کہتا تھا کہ یہ میری ہے جب کہ دونوں میں سے کسی کے پاس اپنے حق میں واضح ثبوت نہیں تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے مقدمے میرے پاس لاتے ہو۔ مگر میں انسان ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ بہتر وکالت کرنا جانتا ہو اور اس کی باتوں کو سن کر میں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔ مگر یاد رکھو اگر میں نے کسی کو اس کے بھائی کا حق دیا ہو گا تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے آگ کا ٹکڑا ثابت ہوگا۔ آپ کی زبان سے یہ سنتے ہی دونوں شخص رو پڑے اور دونوں کا یہ حال ہوا کہ ہر ایک کہنے لگا کہ میرا حق میرے بھائی کے لئے، میرا حق میرے بھائی کے لئے (حقی لا اخی حقی لا اخی) ۵۔ اس سے آدمی کے اندر وہ بلند نظری پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کا بھی اس طرح لحاظ کرنے لگتا ہے گویا کہ وہ اس سے بڑے ہوں۔ امیر معاویہ نے اپنے زمانہ حکومت میں ایک بار ایک انصاری کے پاس پانچ سو دینار بھیجے ۔ انصاری کو یہ مقدار کم معلوم ہوئی۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا ان کو لے کر معاویہ کے پاس جاؤ اور ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page