انفرادی صراط مستقیم
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
منہ پر مار کر کے واپس کر دو۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو قسم دلائی کہ وہ ایسا ہی کرے۔ وہ رقم لے کر امیر معاویہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیر المومنین میرے باپ نے مجھے ایسا حکم دیا ہے اور میں اس کی مخالفت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا، امیر معاویہ نے اپنا ہاتھ اپنے منھ پر رکھ لیا اور کہا، جو کچھ تیرے باپ نے کہا ہے اس کی تعمیل کر۔ مگر اپنے چچا سے ذرا نرمی کا سلوک کرنا۔ لڑکے کو شرم آگئی اور دینار علیحدہ پھینک کر چلا آیا۔ امیر معاویہ نے اس کے بعد تعداد کو دگنا کر کے اسے انصاری کے پاس بھیج دیا۔ (تاریخ الفخری) ۶۔ اس سے وہ حقیقت شناسی پیدا ہوتی ہے کہ معمولی آدمی بھی ایسی باتیں کرنے لگے جو بڑے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیں۔ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں جب سعد بن ابی وقاص نے قادسیہ (فارس) پر چڑھائی کی۔ اس زمانے میں فارسی سپہ سالار رستم اور ان کے درمیان قاصدوں کا تبادلہ ہوا۔ اسی دوران ایک قاصد جب اپنے معمولی سرو سامان کے ساتھ رستم کے پر شکوہ دربار میں پہنچا تو وہ اس کو حقیر دکھائی دیا۔ اس نے اس کے نیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " یہ تنکے کی طرح تمھارے ہاتھ میں کیا چیز ہے؟" قاصد نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: "انگارہ کے لئے اس کا چھوٹا ہونا اس میں کوئی کمی پیدا نہیں کرتا۔" (تاریخ الفخری) ۷۔ اس سے وہ نظر پیدا ہوتی ہے کہ آدمی دشمن کی باریک ترین چالوں کو بھی دیکھ سکے۔ حضرت عمر کے ساتھ ہجرت کرنے والوں میں ایک شخص عیاش بن ربیعہ تھے۔ قریش کو جب معلوم ہوا کہ وہ مدینہ پہنچ گئے تو ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام جوان کے رشتہ دارتھے، ان کے پیچھے مدینہ پہنچے اور عیاش بن ربیعہ سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مکہ واپس چلو۔ تمھاری ماں کو تمھارے چلے آنے کا بہت صدمہ ہے۔ اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تک تمھیں نہیں دیکھے گی نہ بالوں میں کنگھی کرے گی اور نہ سایہ کے نیچے جائے گی۔ حضرت عمر بات کی تہ کو پہنچ گئے۔ انھوں نے عیاش بن ربیعہ سے کہا کہ یہ تم کو واپس لے جانے کی سازش ہے۔ تمھیں ان باتوں سے گھبرانا نہیں چاہئے : خواللہ لو قد آذى امك القمل لا منتشط ولو خدائع قسم تمھاری ماں کو جوں کاٹے گی تو وہ ضرور کنگھی کریگی قد اشتد عليها حر مكة لا تنظلت (البدایہ والنہایہ جلد 1) اور جب مکہ کی گرمی ستائے گی تو وہ ضرور سایہ میں جائے گی۔ مگر عیاش بن ربیعہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ مکہ واپس گئے اور وہاں لوگوں نے انھیں فتنے میں مبتلا کر دیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے اس اجر عظیم ( طلاق ۔ ۵) کی خوش خبری دی گئی ہے کہ ان کی سیئات بھی حسنات میں تبدیل کر دی جاتی ہیں ( فرقان۔۷) حقیقت یہ ہے کہ غلطیاں ہر ایک سے سر زد ہوتی ہیں۔ مومن سے بھی اور غیر مومن سے بھی۔ مگر جس کو حقیقی مقام عبودیت حاصل ہو جاتا ہے، اس سے جو غلطی ہوتی ہے تو اس کے بعد وہ دگنی شدت کے ساتھ خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ اس طرح اس کی غلطی اس کو نئی شدید تر ایمانی کیفیت سے لبریز کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرا گروہ غلطیوں کے اندھیرے میں گم رہتا ہے۔ اس کی غلطیاں اس کو نئی ایمانی خوراک دینے کے بجائے صرف اس کی قساوت میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں : اِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطٰنِ یقیناً جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب پڑتا ہے ان پر شیطان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader