اسلام
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
تذَكَّرُوْا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُونَ وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ اعراف ۲۰۱ - ۲۰۲ اجتماعی صراط مستقیم کا گزر ، وہ چونک جاتے ہیں۔ سو یہ کہ ایک ان کو سوجھ آجاتی ہے اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر کی نہیں کرتے۔ پیغمبر کے ذریعہ جس طرح نماز روزہ کا طریقہ بتایا گیا۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ تحریک کس طرح چلائی جائے، حریف طاقتوں کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اور اسلام کو کس طرح دنیا میں غالب کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح انفرادی زندگی کی ایک صراط مستقیم ہے اسی طرح اجتماعی زندگی کی بھی ایک صراط مستقیم ہے۔ صلح حدیبیہ (۶۲۸) اسلام کی اجتماعی جدوجہد کا اہم ترین واقعہ ہے۔ قرآن کی ۴۸ ویں سورہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : ولتكون آية للمومنين ويهديكم صراطاً مستقيماً فتح - ٢٠ سلحا سی کوسی ایسی بته کی طرف آمده ہوئے کان پر نشان اور تا کہ ایک نمونہ ہو اہلِ ایمان کے لئے، اور تا کہ تم کو دکھا دے سیدھی راہ۔ صلح حدیبیہ کے سیاق میں اس آیت کا آنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح عبادات اور اخلاق میں ایک صراط مستقیم ہے، اسی طرح صلح و مقابلہ کے معاملات میں بھی ایک صراط مستقیم ہے۔ جو شخص صراط مستقیم پر ہو، دوسرے لفظوں میں اس مقام انسانیت پر ہو جہاں فیصلے تمام تر سمع و فؤاد کی بنیاد پر ہوتے ہیں نہ کہ ضد اور ردعمل کی بنیاد پر، اس کو انتہائی دور رس نگاہ حاصل ہو جاتی ہے، وہ تمام جذباتی محرکات اور اضافی پہلوؤں سے گزر کر براہ راست اصل حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے ۔ اس حقیقت رسی کی بنا پر اس کی منصوبہ بندی نہایت صحیح اور قطعی ہوتی ہے۔ وہ اتنا بے پناہ ہو جاتا ہے کہ اس کا نشانہ کبھی نہ چوکے، اس کا وار کبھی خطا ربدريا نہ کرے ۔ اسی لۓ حدیث میں آیا ہے : اتقو فراسة المومن فانہ ينظر بنور اللہ المؤمن کی فراست سے بچو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ قرآن میں جہاں یہ قانون بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان اپنے مقابلہ میں ، اگنا زیادہ تعداد پر غالب رہیں گے ۔ وہاں کثرت تعداد کے باوجود حریف کی شکست کی وجہ یہی بتائی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو ’’ سمجھ ‘‘ نہیں رکھتے : ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا ماءتين وان يكن منكم مائة يغلبوا الفا من الذين كفروا بانهم ( اننفال ـ ۶۵ ) قوم لا يفقهون اگر تم میں ہیں ہیں صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور سو ہوں گے تو وہ ہزار منکروں پر غالب آئیں گے ، اس لئے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے ۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ اس سلسلہ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ صلح صریح طور پر ” دب کر“ کی گئی۔ عقلِ حیوانی اس کے لئے کسی طرح تیار نہ ہو سکتی تھی کہ ڈیڑھ ہزار جان نثار ساتھیوں کے ہوتے ہوئے ایسے صلح نامہ پر دستخط کردیئے جائیں جس کا مسودہ تمام تر دشمن کے مطالبات کی بنیاد پر بنایا گیا ہو۔ مگر عقلِ انسانی جو حقائق کو بے آمیز شکل میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader