Urdu book · اسلام

اجتماعی صراط مستقیم

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کو نظر آرہا تھا کہ یہ صریح طور پر ” فتح مبین “ ( فتح ۔ ۱) کا معاملہ ہے۔ اسی طرح زندگی کے تمام معاملات اور دنیا و آخرت کے سارے مسائل کے لئے ایک صراط مستقیم با سبیل اللہ بتا دی گئی ہے۔ کائنات مکمل طور پر اسی سبیل اللہ پر چل رہی ہے۔ انسان کے لئے بھی نجات اور کامیابی کا راستہ یہی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ کائنات طوعاً و کرہاً رحم سجدہ ۔ ۱۱) اس پر چلنے کی پابند ہے اور انسان کو خود اپنی مرضی سے اسی راہ پر چلنا ہے۔ قرآن نے جس طرح فرد کے ذاتی سفر کے لئے صراط مستقیم کے خطوط متعین کر دیئے ہیں ، اسی طرح اجتماعی معاملاتی میں بھی صراط مستقیم کی وضاحت کے لئے یہ اہتمام کیا ہے کہ ایک طرف حقیقی تجربات کی شکل میں کچھ مثالیں ہمارے سامنے رکھ دی ہیں۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کی حکمتیں بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے ۔ وَيَهْدِ يكَ صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمًا (فتح ۔ ۲) دوسری طرف کچھ ایسے بنیادی اصول بتاتے ہیں جو بیشتر عملی معاملات کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ اور اگر انسان اپنے آپ کو مقام حیوانیت سے بلند کر کے مقام انسانیت پر پہنچا لے تو وہ کبھی یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا کہ کسی خاص اجتماعی معاملہ میں اسے کون سا رویہ اختیار کرنا چاہئے جو اس کو نصرت الہی اور فتح کی طرف لے جانے والا ہو۔ ۱۔ اس سلسلے کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ منفی ذہن کے تحت کبھی کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ ہمیشہ مثبت طور پر اپنا اصل مقصد سامنے رکھا جائے اور اپنی ساری اجتماعی منصوبہ بندی انہیں مثبت مقاصد کے مطابق کی جائے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ اے ایمان لانے والو ، اللہ کے لئے اٹھنے والے ، عدل بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَنْ لَا کی گواہی دینے والے بنو، اور کسی گروہ کی عادت تم کو تَعْدِلُوا ْ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِتَّقْوَى نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو ۔ عدل کرو، وہ تقویٰ سے ( مائدہ ۔ ۹ ) زیادہ قریب ہے۔ غور سے دیکھئے تو تاریخ کی بیشتر ناکامیوں کا سبب یہی ملے گا کہ ضد، نفرت ، بغض، جھنجھلاہٹ اور مخالفت سے متاثر ہو کر کسی کے خلاف اقدام کیا گیا ۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ اس قسم کے جذبات سے متاثر ہو کر اپنا اعلیٰ نقشہ بنائے گا، وہ لازماً غلط راہ پر پڑ جائے گا۔ اس کے برعکس اگر یہ بنیادی ہدایت سامنے ہو اور آدمی اپنی عقل کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح پر پہنچا چکا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ منفی جذبات کا شکار ہو۔ وہ لازماً مثبت بنیادوں پر اپنی منصوبہ بندی کرے گا اور جو منصوبہ بندی مثبت بنیادوں پر کی جائے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ اجتماعی معاملات میں صراط مستقیم کا یہ بنیادی اصول صلح حدیبیہ کے ذیل میں نہایت طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ جب رکھی منکروں نے اپنے دل میں ضد، نادانی کی ضد پھر اللہ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ نے اپنی طرف سے رسول اور مومنوں کو تحمل عطا کیا اور ان کو وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ تقویٰ کے کلمہ پر جمائے رکھا اور وہ اس کے حق دار اور بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (فتح ۔ (٢٦) لائق تھے اور اللہ ہر چیز سے خبر دار ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page